ٹرمپ اور بولٹن میں اختلاف کا امکان / یورپی ممالک نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کیا

امریکی قومی انٹیلیجنس کونسل کے رکن پل پیلار نے مستقبل میں امریکی صدرٹرمپ اور جان بولٹن کے درمیان اختلاف کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسی کا تعلق جان بولٹن کے مستقبل سے وابستہ ہے ، مستقبل میں امریکی صدر ٹرمپ اور جان بولٹن کے درمیان اختلافات کا قوی امکان ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں امریکی قومی انٹیلیجنس کونسل کے رکن پل پیلار نے مستقبل میں امریکی صدرٹرمپ  اور جان بولٹن کے درمیان اختلاف کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسی کا تعلق جان بولٹن کے مستقبل سے وابستہ ہے ، مستقبل میں امریکی صدر ٹرمپ اور جان بولٹن کے درمیان اختلافات کا قوی امکان ہے۔

پل پیلار نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے خارج ہونے ، ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے اور یورپی ممالک کے عدم تحرک کے بارے میں مہر نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ

ایران پہلے ہی کہہ چکا  ہے کہ اس کے صبر کی بھی ایک حد ہے ۔ امریکہ گذشتہ سال مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگیا اور ایران نے ایک سال تک صبر کیا اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کرتا رہا۔ لیکن اس مدت میں یورپی ممالک نے بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور ایران کے لئےامریکہ اور یورپی ممالک کی بد عہدی نمایاں ہوگئی  جس کے بعد ایران نے بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں اس کی بعض شقوں سے خارج ہونے کا اعلان کردیا اور ایران اس اعلان میں حق بجانب ہے۔

پل پیلار نے کہا کہ اگر ایران کو مشترکہ ایٹمی معاہدے سے کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر ایران کا معاہدے پر باقی  رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں موجودہ صورتحال کے ذمہ دار امریکہ اور یورپی ممالک ہیں۔

News Code 1890568

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 6 =