ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں/ یورپ کو سنجیدہ بحران کا سامنا

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے استاد کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ، ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اگر یورپی ممالک نے معاہدے کو نظر انداز کیا تو انھیں سنجیدہ بحران کا سامنا کرنا پڑےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو مين جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے استاد مہران کامروا نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ، ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کیا  ہے اگر یورپی ممالک نے معاہدے کو نظر انداز کیا تو انھیں سنجیدہ بحران کا سامنا کرنا پڑےگا۔

مہران کامروا جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے علاقائی اور بین الاقوامی ریسرچ سینٹر کے سربراہ ہیں اور اس نے کیمبریج یونیورسٹی سے سیاسیات اور سماجیات میں ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی ہے متعدد کتابیں اور مقالات تحریر کئے ہیں جن میں قطر چھوٹا ملک بڑی سیاست ، پہلی عالمی جنگ کے بعد سیاسی تاریخ اور ایران کا فکری انقلاب شامل ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے استاد نے مہر نیوز ایجنسی کے نامہ نگآر کے ساتھ گفتگو میں ایران کا مشترکہ ایٹمی معاہدے کے ذریعہ اپنے مفادات تک نہ پہنچنے ، امریکہ کے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے اور ایران کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک اپنا کیک حاصل کرکے اسے کھانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ ایران سے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل جاری رکھنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ وہ خود مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی وہ امریکہ کے خلاف استقامت دکھا سکے ہیں۔ وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ ان امریکہ کا مقابلہ کرنے کی یا تو ہمت نہیں یا وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے جبکہ ایران نے معاہدے کے مطابق اپنے تمام وعدوں کو پورا کیا ہے ۔ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں صرف ایک کھلاڑی نظر آتا ہے اور وہ ایران ہے۔ لیکن ایران نے بڑے صبر و تحمل کے بعد مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں اس بعض شقوں سے خارج ہونے اور یورپی ممالک کو 60 دن کی مہلت دیکر واضح کردیا ہے کہ ایران کے صبر و تحمل کی بھی ایک حد ہے اگر فریق ثانی مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کرےگا تو ایران بھی معاہدے میں طے شدہ اصولوں کے مطابق اس سے خارج ہوجائےگا۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے استاد مشترکہ ایٹمی معاہدے کے مستقبل کی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کی موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے اگر یورپی ممالک نے اس پر عمل نہ کیا تو ایران بھی اس سے خارج ہوجائے گا جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ ختم ہوجائےگا کیونکہ امریکہ پہلے ہی اس معاہدے سے خارج ہوچکا ہے۔ اس نے کہا کہ امریکی صدر کا ایران کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اسے جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے حال ہی میں ایک بیان میں گروپ 1+4 کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں 60 روزکی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے پہلے ہی  خارج ہوگيا ہے لہذا معاہدے سے کسی ایک فریق  کے خارج ہونے کی صورت ميں ایران بھی معاہدے  سے خآرج ہوسکتا ہے لیکن ابھی ایران معاہدے کے مطابق عمل جاری رکھے گا البتہ ایران معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہورہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور اعلی سلامتی کونسل کے سربراہ حسن روحانی نے اپنے ایک خط کے ذریعہ  ایران کے اس اہم اور قانونی فیصلے سے جرمنی، برطانیہ، روس اور چين کے سربراہان کو آگاہ کردیا ہے۔

News Code 1890450

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =