بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ بھی جاری

امریکہ کی کم و بیش دنیا کے اکثر ممالک میں مداخلت کا سلسلہ جاری ہے اس نے روس ، چین ،ایران اور بعض دیگر ممالک سمیت متعدد ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں۔ امریکہ سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک کو بھی اکثر آنکھیں دیکھتا رہتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق امریکہ کی کم و بیش دنیا کے اکثر ممالک میں مداخلت کا سلسلہ جاری ہے اس نے روس ، چین ،ایران اور بعض دیگر ممالک سمیت متعدد ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں۔ امریکہ سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک کو بھی اکثر آنکھیں دیکھتا رہتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات کے ساتھ کشیدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں کچھ ہی عرصے میں خاصی کشیدگی بھی جاری ہے۔ جس کا اثرخطے کی سیاسی، دفاعی ا ور تجارتی معاملات پربھی پڑرہا ہے۔ گزشتہ سال مئی کے مہینےمیں بھارتی وزیر اعظم اور روسی صدر پوتین کی ملاقات میں بھارتی وزیر اعظم نے روس کے میزائل ڈیفنس سسٹم s-400کی خریداری کی بات چیت کی تھی جس کے بعد یہ معاہدہ ماسکو میں طے ہوا اور ساڑھے پانچ سوارب ڈالرز کے معاہدےپر دست خط ہوگئے۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ نے شدید غصہ و برہمی کا اظہار کرتے ہوئےتنقید کی کہ روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے اتنا بڑا سودا روس سے کرلیا جب کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان گزشتہ سال ہی مختلف جدید ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے ہوئے تھے جس میں ہتھیاروں کے ساتھ بعض جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی بھی بھارت کو منتقل کی گئی۔بھارت نے نہ صرف امریکی ڈرون خریدے بلکہ اس کی ٹیکنالوجی بھی امریکہ سے خریدی۔ بھارت نے امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم ،تھاڈ کی خریداری کے لیے بات چیت کی تھی، مگر پھر روس سے ایسا ہی میزائل ڈیفنس سسٹم خرید لیا۔ امریکہ کو بھارت اور ونزوئلا کے درمیان تعلقات سے بھی غصہ ہے۔  بھارت کا ونزوئلا سے تیل خریدنا امریکہ کو پسند نہیں ہے  اس پر امریکی مشیر دفاع، جان بولٹن نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ونزوئلا اور امریکہ کے ایک عرصے سے تعلقات خراب رہے ہیں اور امریکہ کی طرف سے اس پر سخت پابندیاں عائد ہیں، اس کے باوجود بھارت نے اس سے تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ونزوئلا  سے تجارت کا مطلب ہے، صدر نکولس میدورو کی حمایت کرنا جسے امریکہ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ تجارتی شعبے میں بھی بھارتی پالیسیوں پرصدر ٹرمپ کو شدید غصہ ہے۔

ماہرین کے مطابق چند ماہ میں دونوں جانب کے تجارتی اور سرمایہ کاروں کے حلقوں کی کوششیں رہی ہیں کہ اختلاف رائےدورکرکے کسی حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں جس سے طبّی آلات، زرعی سامان اور موبائل وغیرہ کی تجارت کو فروغ مل سکے۔ مگر وال مارٹ اور امیزون کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بھارتی پالیسی نے امریکہ کو جھٹکا دیا ہے اور ان اداروں کا اربوں ڈالرز کا کاروبار خطرے میں پڑچکا ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے ان پر زور دے رہے کہ بھارت کو امریکا کی طرف سے جوبھی سہولتیں دی گئی ہیں،وہ واپس لے لی جائیں۔ صدر ٹرمپ کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ صدر کوئی سخت قدم نہیں اٹھائیں گے۔ شاید وہ اس کمی کو دیگر شعبوں میں تعاون سے پورا کرنے کی کوششیں کریں۔

امریکہ کےدفاعی مشیر نے خیال ظاہر کیا کہ ایران پر شدید پابندیاں عائد ہیں، مگر بھارت نے ایران سے تعلقات اور تجارت جاری رکھی ہے اور صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں بھارت کو چھوٹ دے رکھی ہے۔دفاعی شعبوں میں امریکہ نے بھارت کو جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کی دفاعی حکمت عملی میں زیادہ اہمیت دے رکھی ہے۔ حال ہی میں بھارت نے انڈونیشیا کے تین جزائر کو اپنا نیول بیس بنانے کا معاہدہ کیا ہے ۔ بھارت اپنے طور پر بحرہند اور مغربی بحرالکاہل میں اپنی بحریہ کو فعال بنارہا ہے۔ موجودہ شرائط میں امریکہ، بھارت کے غیرلچک دار رویّے کے باوجود اس کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔کیوں کہ دوسال قبل امریکہ اور بھارت کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں زیادہ تر دفاعی اور کچھ تجارتی معاہدےطے پائے تھے۔ اس خطے میں بھارت ایک طرح سے امریکہ کا بڑا اتحادی بن کر ابھرا ہے۔بھارتی سفارتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین قدرے کشیدگی اور سردمہری کےباوجود دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر عمل کیاجارہا ہے ۔ اس کے لیےتجارت سے زیادہ دفاع اہم ہے۔ مگر بدلتی دنیا کے بدلتے ہوئےحالات میں ہر ملک اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔

News Code 1890210

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 3 =