ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکت، سی آئی اے سے جواب طلبی کی پالیسی منسوخ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملوں سے شہریوں کی ہلاکت پر سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے جواب طلب کرنے کی پالیسی کو منسوخ کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ادارے کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملوں سے شہریوں کی ہلاکت پر سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے جواب طلب کرنے کی پالیسی کو منسوخ کردیا۔

اس اقدام نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے 2 سال پرانے حکم کو تبدیل کردیا، جو انسداد دہشت گردی اور فوجی آپریشن میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کے بے دریغ استعمال کے بعد شفافیت کے طور پر سامنے آیا تھا۔ امریکی صدر کا یہ اقدام سی آئی اے کو حملے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ طول دے گا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک ڈرون آپریشن کے لیے فوج کے بجائے خفیہ ایجنسیوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے فوری طور پر اس اقدام پر تنقید کی گئی ہے۔ اس بارے میں ہیومن رائٹس فرسٹ کی ریٹا سیمیون کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا ایکشن غیر ضروری اور خطرناک قدم ہے جو مہلک طاقت کے استعمال کے لیے شفافیت اور احتساب کو پیچھے کردے گا اور یہ شہریوں کی ہلاکت کی وجہ بنے گا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کے اقدام نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے یکم جولائی 2016 کو دیے گئے اس حکم کو منسوخ کردیا، جس میں امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے لیے ضروری تھا کہ وہ فعال جنگ زدہ علاقوں کے باہر دہشت گرد اہداف کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تعداد اور اس کے نتیجے میں جنگجوؤں اور شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا تعین کرکے سالانہ رپورٹ دیں۔

News Code 1888652

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 6 =