24 جنوری، 2019، 5:05 PM

گولی کا جواب گولی سے دیں گے، پاکستان

گولی کا جواب گولی سے دیں گے، پاکستان

پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارت گولی سے بات کرے گا تو اسے گولی سے ہی جواب دیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارت گولی سے بات کرے گا تو اسے گولی سے ہی جواب دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان اور قطر امریکہ طالبان مذاکرات میں سپورٹ فراہم کررہے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے صدرٹرمپ کے ساتھ پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم ابھی تک تاریخ کا کوئی تعین نہیں ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جب کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کی اپیل میں اگر بریت ہو اس کے باہر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت کی جانب سے پیلیٹ گنز کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کی، پاکستان نے 21 جنوری کو بھارت کو کرتار پور راہداری منصوبے کا مسودہ اور پلان بھیجا اور ہم نے بھارت کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے وفد بھیجنے کی درخواست کی تاہم بھارت نے جواب میں بچکانہ انداز میں پاکستانی وفد دہلی بھیجنے کیلئے دو تاریخوں کا تعین کردیا، اب پاکستان کا جواب انتہائی سنجیدہ ہوگا جو کچھ دنوں میں دیں گے۔

پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ بھارت اگر گولی سے بات کرے گا تو گولی سے جواب دیں گے، بھارت امن کی بات کرے گا تو امن سے بات کریں گے، پاکستانی فوج بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔

News ID 1887558

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha