فرانس میں پرتشدد مظاہروں میں 30 افراد زخمی/ مظاہرین کا صدر سے استعفی کا مطالبہ

فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے دباؤ میں آکر فرانسیسی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا تاہم تازہ ترین مظاہروں میں ہزاروں یلوویسٹ مظاہرین نے صدر ایمانوئیل میکرون سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے دباؤ میں آکر فرانسیسی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا تاہم تازہ ترین مظاہروں میں شامل 31 ہزار یلوویسٹ مظاہرین نے صدر ایمانوئیل میکرون سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے بڑے شہروں میں مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے صدر میکرون کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ 4 دسمبر کو فرانس کے وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ 6 ماہ کے لیے واپس لیا جاتا ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت دیگر شہروں میں تازہ ترین مظاہروں میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کیا اور ریلیاں نکالی جس کے نتیجے میں 700 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر حکومت نے مسلسل چوتھے ہفتے بھی احتجاج جاری رہنے پر ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور شروع کردیا ہے تاہم پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی کی گئی تھی۔

News Code 1886296

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =