جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا حساس اداروں کے بارے میں بیان حذف

پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس عدالتی آرڈر سے حذف کردیئے گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس عدالتی آرڈر سے حذف کردیئے گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے حساس اداروں کے خلاف ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔  وزارت دفاع کی درخواست پر ہائی کورٹ نے عدالتی آرڈر سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس حذف کر دیئے۔ ایڈوکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے مطابق کسی بھی بنچ کی تشکیل کے لئے عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی بنچ کی تشکیل میں کسی دباؤ کے تاثر کو رد کردیا ہے۔ عدالت نے وزارت دفاع کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ 18 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے لاپتہ افراد کیس میں ریمارکس اور آبزرویشن دی تھی کہ عدلیہ اور دیگر اداروں میں حساس اداروں کی مداخلت کو روکا جائے، جو اہم معاملات میں اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

News Code 1882747

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 1 =