مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خيبر پختون خواہ کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا بل منظور کرلیا گیا۔ صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے فاٹا اصلاحاتی بل ایوان میں پیش کیا جب کہ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی موجود تھے۔ بل کے حق میں 92 اور مخالفت میں 7 ووٹ ڈالے گئے۔ ارکان اسمبلی بل کی منظوری کے حق میں کھڑے ہوگئے اور صرف جمیعت علماء ف ( جے یو آئی ) کے ارکان بیٹھے رہے جنہوں نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ واضح رہے کہ فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئین کی شق 246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کو بالاخر ایک صدی بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخواہ اسمبلی نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا
پاکستان کے صوبہ خيبر پختون خواہ کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا بل منظور کرلیا گیا۔
News ID 1881012
آپ کا تبصرہ