مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کا رد عمل شدید اورمناسب ہوگا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ میں مقیم ایرانیوں کے ساتھ ملاقات میں ایران کی تعمیر میں دنیا بھر میں مقیم ایران کے نقش کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران کا مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل جاری ہے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کا رد عمل بھی مناسب اور شدید ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ میں مقیم ایرانیوں کے ساتھ ملاقات میں ایران کی تعمیر میں دنیا بھر میں مقیم ایرانی شہریوں کے نقش کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مشترکہ ایٹمی معاہدے میں صداقت دنیا پر عیاں ہوگئی ایران کا مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل جاری رہےگا لیکن اگر کسی نےفریق نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تو اس صورت میں ایران کا ردعمل بھی مناسب اور شدید ہوگا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی قوم کی صداقت دنیا پر عیاں ہوگئی اور ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے کی قلعی بھی کھل گئی مشترکہ ایٹمی معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس کی خلاف ورزی کا امریکہ کو تاوان ادا کرنا پڑےگا۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی حکام کے پاس جھوٹ بولنے اور مکر و فریب کے علاوہ کچھ نہیں اور دنیا امریکی مکر و فریب سے اچھی طرح باخـبر ہے۔

صدر حسن روحانی نے ایرانی قوم کو تاریخي ، ثقافتی اور مایہ ناز قوم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جہاں بھی آباد ہوئے وہاں انھوں نے بہترین ثقافت کے آثار قائم کئے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے امریکہ میں مقیم ایرانیوں کی مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کے سلسلے میں کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ثابت کردیا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور ایران نے عملی طور پر امریکہ کو دنیا کے سامنے جھوٹا ثابت کرکے رسوا کردیا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ حکومت نے اگر مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے کی کوشش کی تو اسے عالمی برادری کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑےگا ۔ مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت اور اس پر عمل صرف ایران کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی حفاظت اور اس پر عمل گروپ 1+5 کے رکن ممالک کی بھی ذمہ د اری ہے اگر کسی نے اس عالمی معاہدے کو توڑنے کی کوشش کی تو اسے اس کا تاوان بھی ادا کرنا پڑےگا۔

News Code 1875353

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 17 =