پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے افغانستان کے الزامات کو رد کردیا

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے افغان حکومت  کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور مشیر قومی سلامتی امور ناصر جنجوعہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرحدوں کی صورت حال، پاک بھارت حالیہ کشیدگی، افغان بارڈر کی صورت حال اور داخلی امور زیر بحث آئے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے افغان قیادت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے افغانستان میں امن کی بگڑتی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں  ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور پاکستان افغانستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق افغانستان میں سرگرم داعش دہشت گرد تنظیم کے سر پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔

News Code 1873040

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 15 =