مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے تہران میں جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانگریس ایران کے ایٹمی مذاکرات اور جامع معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اور جامع معاہدے کی صورت میں اس کے نفاذ کی ذمہ داری امریکی حکومت کے دوش پر عائد ہوتی ہے ایران کسی بھی قسم کی منہ زوری اور دھمکی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے معاہدے پر نگرانی کے سلسلے میں امریکی سینیٹ کی قرارداد کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اندر اور باہر بعض سیاسی احزاب، ایران کے ایٹمی معاملے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ مذاکرات میں خلل اور رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے اور ایران کے ایٹمی مذاکرات میں اگر کسی معاہدے تک پنہچ گئے تو اس کے نفاذ کی ذمہ داری امریکی حکومت کی ہوگی اور اگر کسی ایک فریق نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو معاہدہ منسوخ ہوجائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جنوبی افریقہ کے ساتھ ایران کے باہمی تعلقات کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران جنوبی افریقہ کے ساتھ تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ نے ایران کو علاقہ کا ایک اہم ملک قراردیتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ بھی ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے ۔
آپ کا تبصرہ