رہبر معظم کی اسلامی ثقافت کے حامیوں کی حوصلہ افزائی پر تاکید

مہر نیوز/18 اکتوبر/ 2014 ء :رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے نئے دور کے آغاز کے موقع پر اپنے حکم میں ثقافت کے شعبہ میں اسٹراٹیجک چیلنجوں کی مدیریت کے سلسلے میں تمام مواقع اور ظرفیتوں سے بھر پور اور مکمل استفادہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی اور انقلابی ثقافت کے حامیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے نئے دور کے آغاز کے موقع پر اپنے حکم میں ثقافت کے شعبہ میں اسٹراٹیجک چیلنجوں کی مدیریت کے سلسلے میں تمام مواقع اور ظرفیتوں سے بھر پور اور مکمل استفادہ کرنے ، حکیمانہ اور معقول نگاہ کے ساتھ خطرات اور نقصانات کو مہار اور کنٹرول کرنے، اور دشمنوں کی یلغار کا ہوشیاری کے ساتھ مقابلہ کرنے کو ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کی اصلی تکالیف اور ذمہ داریوں میں قراردیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے منظور شدہ گذشتہ قوانین کے ہمراہ مزید 7 ترجیحات کو ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کی ذمہ داریوں میں قراردیا اور ان کے سریع نفاذ پر تاکید کی اور اسلامی و انقلابی ثقافت کے حامیوں اور مخالفین کے محاذ کے ساتھ خلاقانہ اور فعال رفتار پر زوردیا اور ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کی پیشرفت اور ترقی میں برق رفتار سرعت ، ملک کے تعلیمی اور تربیت نظام بالخصوص انسانی علوم میں تحول اور تبدیلی کے امور کو مشخص کیا اور ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے ارکان میں مزید تین حقوقی ارکان کا اضافہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے حکم کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کا وجودی فلسفہ در حقیقت اسلامی انقلاب کی ثقافتی حقیقت کے نفاذ، استحکام، تشریح اور فہم ، اسلامی انقلاب کے ثقافتی محاذ کی پیہم و مسلسل تنظيم نو، اسلامی جمہوریہ ایران کی عظیم لیاقتوں اور ظرفیتوں کے پیش نظر ملک کی ثقافتی ترقیات کی نگرانی ہے۔

اس شعبہ میں اسٹراٹیجک چيلنجوں کی مدیریت، تمام مواقع اور ظرفیتوں سے بھر پور اور مکمل استفادہ، نیز حکیمانہ اور معقول نگاہ کے ساتھ  خطرات اور آسیب کو مہار و کنٹرول کرنا اور دشمنوں کی یلغار کا ہوشیاری کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کونسل کی اصلی ذمہ داریوں اور تکالیف کا حصہ ہے۔

علمی پیداوار، طرز زندگی، تعلیم و تحقیق ،عمومی ثقافت اور ثقافتی انجینئرنگاس شعبہ کے اہم اساسی اور بنیادی میدان اور عناصر ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران میں  ان عناصر کی تنظیم و ترتیب کی ذمہ داری  ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے دوش پر رکھی گئی ہے۔

اپنے عنوان اور نام کے ساتھ ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کی وابستگي اس عظیم ذمہ داری میں اس  کی کامیابی کی اصلی شرط ہے جو اس کے دوش پر رکھی گئي ہے۔

ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے ایک اور دور کےمکمل ہونے اور نئے دور کے آغاز کے پیش نظر اس کونسل کے گذشتہ دور کے حقیقی اور حقوقی ارکان کے ہمراہ اسٹریٹجکمنصوبہ بندی اورنگرانیکے نائب صدر، خواتین اور خاندان کے امور میں نائب صدر اور دفتر تبلیغات اسلامی کے سربراہ کو حقوقی ارکان کے طور پر تین سال کی مدت کے لئے اس کونسل میں منصوب کرتا ہوں۔

ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے سربراہ ، سکریٹری اور ارکان کی پیہم کوششوں اور زحمات پر ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور نئی کونسل کے لئے مندرجہ ذیل ترجیحات  کا اعلان کرتا ہوں۔

1۔ گذشتہ برسوں میں ابلاغی ترجیحات کے بارے میں کونسل کی اچھی کوششوں کے باوجود ، آج ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کی اصلی ذمہ داری منظور شدہ قوانین کے نفاذ اور مکمل نتائج کے حصول تک جاری رہنی چاہیے۔

2 ۔ اسلامی اور انقلابی ثقافت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سنجیدہ محاذ آرائی کے پیش نظر ، ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کو آشکار ثقافتی محاذ بندی کے ساتھ خلاقانہ اور فعال رفتار اپنانی چاہیے اور اسلامی اور انقلابی ثقافت کے حامیوں کی ملک اور بیرون ملک حوصلہ افزائي اور اسلامی اور انقلابی ثقافت کے دشمنوں کو مایوس بنانے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

3 ۔ عوامی سطح پر ثقافتی سرگرمیوں کے بیشمار خود جوش موارد خصوصا مؤمن و انقلابی جوانوں کی ثقافتی کوششوں کے پیش نظر اسلامی نظام کے ثقافتی اداروں اور ان کے سرفہرست ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کو اپنا اہم نقش ایفا کرنا چاہیے اور سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو برطرف کرنے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

4 ۔ درست پالیسیوں، پیہم تلاش و کوشش اور استعمال کے کمی اور کیفی ارتقاء اور تمام قومی ظرفیپتوں سے استفادہ کے بغیر ثقافتی محصولات اور اشیاء کو میدان میں پیش کرنا ممکن نہیں ہوگا ثقافتی مدیریتوں ، ثقافتی فعالیتوں اور ثقافتی انجینئرنگ کے ساتھ  اس میدان میں کامیابی ممکن ہوگی ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کو سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر اور ثقافتی شعبہ میں انسانی وسائل کی تمام ظرفیتوں کو مذکورہ اور متناسب شرائط کے ساتھ  اضافہ اور اس کی تنظیم نو  کرنی چاہیے۔

5 ۔ ملک کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں برق رفتار پیشرفت اور ترقی ، ملک کی بنیادی ترجیحات میں ہے اور ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کا اس میں اہم کردار ہے۔ بحمداللہ ملک کے جامع نقشہ اور اس کی منظوری کے ساتھ ، سائنس  اور ٹیکنالوجی کے شعبہ نے اپنا روڈ میپ اور نقشہ راہ حاصل کرلیا ہے اور جامع علمی نقشہ کی اسٹراٹیجک کمیٹی تشکیل پا گئي ہے؛ اور اس نے اس راہ میں حرکت کا آغاز کردیا ہے اور اب تک اس نے اچھے اور بہترین نتائج پیش کئے ہیں۔

اس راہ پر گامزن رہنے کے لئے حکام خصوصا حکومت اور تینوں قوا کے سربراہان کی جانب زیادہ سے زیادہ اہتمام بہت ضروری ہے ملک کی علمی پیشرفت اور ترقی میں کسی بھی صورت میں کمی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ملک کی علمی ترقی اور رشد میں روز بروز اضافہ ہونا چاہیے اور ثقافتی کونسل کو بھی اس سلسلے میں اپنا نظارتی نقش و کردار سنجیدگی کے ساتھ ایفا کرنا چاہیے۔

6 ۔ملک کے اعلی تعلیمی ادارے اور وزارت تعلیم اور علوم انسانی میں تعلیمی و تربیتی نظام میں  ثقافتی انجیئنرنگ ، تحول و انقلاب،جدید تشکیل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ ابھی تک اس شعبہ میں مطلوبہ حد تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اور ان امور کے مؤخر ہونے سے انقلاب اسلامی کو بہت زيادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑےگا  لہذا ان امور پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے اور ایک معقول مدت کے اندر اس پر تجدید نظر کرکے اس کو منزل مقصود تک پہنچانا چاہیے۔

7 ۔ ثقافتی کونسل کے اجلاس کی منظم اور بروقت تشکیل، ارکان خصوصا تینوں قوا کے سربراہان کی فعال شرکت ، بحث و تبادلہ خیال اور تمام ارکان خصوصا حقیقی ارکان کی ہمت اور وقت صرف کرنے پر تاکید کی جاتی ہے۔

اللہ تعالی کی بارگاہ سے تمام حضرات کے لئےتوفیق طلب کرتا ہوں۔

سید علی خامنہ ای

26/مہر/1393

News Code 1842477

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha