مہر خبررساں ایجنسی نے مصری الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کےباعث غزہ میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے جبکہ مصر کی حکومت سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امدادی قافلوں کو گذرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔
مصر کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبدالفتح السیسی، سعودی عرب کے تعاون سے اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئےتھے ۔ 3 جولائی 2013 کو فوجی بغاوت کے بعد انہوں نے غزہ سے ملنے والی رفح سرحد بند کررکھی ہے ۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد بڑی تعداد میں امدادی قافلے فلسطینیوں کو خوراک ، دواؤں اور دیگر اشیاء کی فراہمی کےلیے رفح بارڈر پر رکے ہوئے ہیں لیکن مصری حکومت انہیں غزہ جانے کی اجازت نہیں دے رہی ۔ حماس کے ترجمان فوزی برھُم نے مصری حکومت سے رفح بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر صحت کی عالمی تنظیم نے بھی غزہ سے زخمیوں کو باہر نکالنے اور فلسطینیوں کو جلد از جلد طبی سازو سامان پہنچانے کی اپیل کی ہے۔عرب ذرائع کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جارحیت سعودی عرب کے بادشاہ کے اشاروں پر ہوئی ہے۔
آپ کا تبصرہ