مہر خبررساں ایجنسی پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیم طالبان کے سرغنہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے آئین کو پامال کیا جبکہ طالبان آئین پر عملدرآمد کی جنگ لڑ رہے ہیں مولانا سمیع الحق کو طالبان دہشت گردوں کا بابا آدم قراردیا جارہا ہے۔سمیع الحق نے طالبان کی طرف سے مکمل با اختیار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے یہ بھی کہدیا کہ ان کا حکومتی اور طالبان کمیٹی سے کوئي تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود وہ بااختیار ہیں۔سمیع الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے آئین کو پامال کیا ہے اور طالبان آئین پر عملدرآمد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔واضح رہے کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مفتی کفایت اللہ، لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کو شامل کیا گیا تھا تاہم تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔ اب طالبان کی تین رکنی کمیٹی کی سرپرستی سمیع الحق کررہے ہیں جس میں لال مسجد کے مولانا عبد العزیز، جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور خود سمیع الحق شامل ہیں۔ سمیع الحق کو طالبان کا سرغنہ اور سرپرست قراردیا جارہا ہے اور وہ طالبان کو مشکل حالات سے نکالنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔
مولانا سمیع الحق
پاکستانی حکمرانوں نے آئین کو پامال کیا جبکہ طالبان آئین پر عملدر آمد کی جنگ لڑ رہے ہیں
مہر نیوز/ 5 فروری/ 2014 ء :پاکستان میں دہشت گرد تنظیم طالبان کے سرغنہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے آئین کو پامال کیا جبکہ طالبان آئین پر عملدرآمد کی جنگ لڑ رہے ہیں مولانا سمیع الحق کو طالبان دہشت گردوں کا بابا آدم قراردیا جارہا ہے۔
News ID 1832978
آپ کا تبصرہ