مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے شام پر امریکہ اور برطانیہ کے ممکنہ فوجی حملے پرخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر مسلط کردہ جنگ کا دائرہ شام تک محدود نہیں رہےگا۔ ترجمان نے کہا کہ جس طرح امریکہ نے عراق و ایران جنگ کے دوران صدام ملعون کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کئے تھے اسی طرح امریکہ نے آج شام میں بھی دہشت گردوں کو کیمیاوی ہتھیارفراہم کئے ہیں جب عراق ، ایران کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کررہا تھا تو امریکہ بالکل خاموش تماشائي بنا ہوا تھا اور آج امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک شام میں دہشت گردوں کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کررہے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کریں اور جب دہشت گرد کیمیماوی ہھتیاروں کا استعمال کرتے ہیں تو امریکہ اس کا الزام بغیر کسی ثبوت کے شامی حکومت پر عائد کرکے فوجی کارروائی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے البتہ آج دنیا امریکہ کی معاندانہ سازشوں سے اچھی طرح آگاہ ہےاورجانتی ہے کہ امریکہ اب جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر کیمیاوی ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر شام پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن شام پر مسلط کردہ جنگ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو سخت مہنگی پڑےگی۔ ترجمان نے کہا کہ شام کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے کوئي شواہد موجود نہیں ہیں جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے خان عسل میں کیمیاوی ہتھیاروں کے شواہد موجود ہیں اور الغوطہ میں بھی دہشت گردوں نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں لیکن امریکہ دہشت گردوں کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے شامی حکومت پر بے بنیاد الزام عائد کررہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مسلم اقوام شام کے خلاف امریکی جنگ کو ہر گز برداشت نہیں کریں گی اور جنگ کا دائرہ شام تک محدود بھی نہیں رہےگا۔
مہر نیوز/27 اگست /2013ء: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام پر امریکہ اور برطانیہ کے ممکنہ فوجی حملے پرخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر مسلط کردہ جنگ کا دائرہ شام تک محدود نہیں رہےگا۔
News ID 1827030
آپ کا تبصرہ