12 اپریل، 2012، 11:46 PM

سانحہ چلاس

سانحہ چلاس میں کم سے کم 50 افراد شہید/پاکستانی میڈيا نے صرف 16 کا اعلان کیا

سانحہ چلاس میں کم سے کم 50 افراد شہید/پاکستانی میڈيا نے صرف 16 کا اعلان کیا

مہر نیوز- 12 اپریل 2012ء: سانحہ چلاس کے المناک اور دردناک واقعہ کےایک عینی شاہد علی رضا ،دہشتگردوں کے ہاتھوں سے بچ کر اسکردو پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔انھوں نے سانحہ چلاس میں شہید ہونےوالوں کی تعداد کم سے کم 50 بتائی ہے جبکہ پاکستانی میڈيا نے اس الم ناک واقعہ میں صرف 16 افراد کی شہادت کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کے بہیمانہ عمل کو ماہرانہ انداز میں چھپانے کی کوشش کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ چلاس کے المناک اور دردناک واقعہ کےایک عینی شاہد علی رضا  نے اسلام ٹائمز کے ساتھ گفتگو میں سانحہ چلاس میں شہید ہونےوالوں کی تعداد کم سے کم 50 بتائی ہے جبکہ پاکستانی میڈيا نے اس الم ناک واقعہ میں صرف 16 افراد کی شہادت کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کے بہیمانہ عمل کو ماہرانہ انداز میں چھپانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ  ہے2اپریل کی رات 8 بجے باقی مسافروں کے ہمراہ میں بھی راولپنڈی سے اسکردو کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ بھر میں کانوائی کے نام پر گھنٹوں بسوں اور گاڑیوں کو روک کر رکھا گیا۔ ایک درجن سے زائد بسیں گلگت بلتستان جانے کے لئے روانہ ہوئیں۔ علی رضآ نے کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے جو ہولناک مناظر دیکھے، وہ خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ مسافروں کی بے سروسامانی اور ان پرہزاروں بپھرے ہوئے قاتلوں کے حملے  میں جو کچھ ہوا، وہ سب بیان کرنےکا حوصلہ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ جیسے ہی ہم چلاس میں گونر فارم کے قریب پہنچے تو اردگرد ہزاروں لوگ موجود تھے۔ کئی درجن موٹر سائیکل سواروں نے ہمیں روکے رکھا، وہ سب دہشت گرد مسلح تھے

میں نے بس کی کھڑکی سے جھانکا تو قریب ہی پولیس تھانہ اور عوامی اجتماع کو دیکھ کر اطمینان ہوا۔ موٹر سائیکل سواروں نے بس کو رکوایا، ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی، دائیں بائیں سے ہزاروں کی تعداد میں موجود بھیڑئے امڈ آئے اور بس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اتنے میں دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے قریب چند خواتین اور ان کی گود میں چار سالہ بچہ بھی تھا۔ وہ خواتین دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ بس کا دروازہ کھلوایا اور کہا ایک ایک کر کے نیچے اتریں۔ میں پیچھے تھا۔ پہلا مظلوم شخص جسکا تعلق گلگت سے تھا وہ نیچے اترا ہی تھا کہ ایک کربناک آواز آئی اس گولی مار کرشہید کردیاگيا۔ دوسرا شخص بھی نیچے اترا۔ وہاں سے پوچھنے کی آواز آئی شناختی کارڈ دکھاؤ۔

تھوڑی دیر کے توقف کے بعد گولیوں کی آواز آئی اور ساتھ ہی شیعہ کافر کے نعرے بلند ہو گئے۔ بس سے مسافرین کانپتے، لرزتے قتل گاہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سب کی زبان سے یااللہ مدد کا ورد جاری تھا۔ جب میری باری آئی میں نے اس معصوم بچے کو اٹھانے میں اس عورت کی مدد کی اور اس خاتون کو حوصلہ دیا اور کہا انشاءاللہ کچھ نہیں ہو گا، آپ بے فکر ہو جائیں، اس خاتون نے کہا کہ کچھ نہیں ہو رہا تو ان گولیوں کی آواز کیا ہے۔ میں باہر نکلا تو کئی لمبی لمبی داڑھی والے بوڑھے موجود تھے۔ انہوں نے میرے شناختی کارڈ کا پوچھا تو میں نے نفی میں سر ہلایا۔ انہوں نے میری قمیض اوپر کی اور پشت دیکھ کر کہا یہ شیعہ نہیں ہے زنجیر کی کوئی علامت نہیں۔ میں آگے بڑھ رہا تھا۔
ہمیں سائیڈ پر بلایا، لیکن میں کیا دیکھتا ہوں میرے ارد گرد 25،20 لاشیں پڑی تھیں۔ میں ان لاشوں سے گزر رہا تھا۔ میرے آگے والی بس سے بھی لوگوں کو اتار کر مار رہے تھے۔ میں نے قیامت کا وہ منظر دیکھا، جب ایک میاں بیوی یا شاید بہن بھائی ہوں، کو بس سے اتارا گیا۔ وہ دونوں شکل سے گلگت کے لگ رہے تھے۔ دہشتگردوں نے اس آدمی کے ہاتھ کو کھینچ کر دوسری طرف لے جانا چاہا تو اس خاتون نے چیختے چلاتے دوسرے ہاتھ کو دوسری طرف کھینچ لیا تو اس خاتون کے سامنے ہی گولی چلائی گئی اور اسے شہید کردیا۔ مجھ میں جرأت نہیں کہ اس خاتون کے سامنے اس کے عزیز کو تڑپتے سسکتے دیکھوں، لہٰذا میں نے اپنی نظریں پھیر لیں۔ کئی مرتبہ سوچا ان ظالموں پر حملہ کر دوں، لیکن  میں اکیلا تھا تو دوسری طرف ہزاروں دہشت گرد اور درندے موجود تھے
میری نظر دوسری طرف پھر گئی تو میں نے کیا دیکھا کہ اسکردو کے ایک شخص کو پیچھے والی گاڑی سے نکال کر باہر لایا گیا۔ پتہ نہیں میری گناہگار آنکھوں نے یہ دلخراش منظر کیسے دیکھا، جب اس مظلوم پر پتھروں، ڈنڈوں اور ہر اس چیز سے جو ان کے ہاتھوں میں تھی حملہ شروع ہو گیا۔ میں نے کچھ دیر یہ منظر بھی دیکھا، لیکن اس وقت اس کی طرف نہیں دیکھ سکا، جب وہ حملوں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر پڑا۔ وہ زور زور سے یاحسین (ع)  کہہ رہا تھا۔ ایک ظالم نے پانچ سے دس کلو کا ایک بڑا پتھر اٹھا کر اس کے سر کی طرف پھینکا تو مجھ سے دیکھا نہیں گیا۔ اتنے میں میری نظریں ان ظالموں پر پڑیں جو چار پانچ بے گناہ شہیدوں کی لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر دریا برد کر رہے تھے۔

علی رضا نے کہا کہ میری بائیں طرف پولیس کا تھانہ تھا، جہاں دہشتگرد داخل ہو رہے تھے اور مسلح ہو کر باہر نکل رہے تھے۔ وہاں کربلا کا منظر تھا۔ کسی پر چھری چل رہی ہے، کسی پر ڈنڈے برسائے جا رہے تھے، کسی کی چیخ، کسی کی پکار، ہر طرف خون، شیعہ کافر کے نعرے اور لاشوں کی بے حرمتی۔ بھائی کا بہن کے سامنے تڑپنا، بھائی کا بھائی کی نظروں کے سامنے شہید ہو جانا، یہ سب وہ دلدوز مناظر ہیں جو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ یہ وہ مناظر ہیں جن سے پہاڑوں کے دل دہل جائیں اور انسانیت کا سرشرم سے جھک جائے۔ علی رضا کا کہنا ہے کہ سانحہ چلاس میں کم سے کم 50 افراد شہید کئے گئے ہیں  لیکن پاکستانی میڈيا نے کم سے کم تعداد پیش کی۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی عدلیہ دہشت گردوں کے سامنے باکل بے بس نظر آتی ہے بلکہ بعض جج صاحبان تو دہشت گردوں کو آزاد کردیتے ہیں پاکستان میں لاقانونیت عدلیہ سے لیکر نچلی سطح تک جاری ہے۔ اور پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا خون بڑی بے دردی کے ساتھ بہایا جارہا ہے۔

News ID 1575535

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha