مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے ایک خـبری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ 23 نومبر کو ترکی کے شہر انقرہ میں ترکی کے وزير اعظم رجب طیب اردوغان اور قطر کے وزیر اعظم حمد بن جاسم کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں اسرائیل کے ایک اعلی اہلکار اور فرانسیسی صدر کے اعلی مشیر بھی شامل ہوگئے جس کے بعد یہ ملاقات چار فریقی ملاقات میں تبدیل ہوگئی۔ اس ملاقات میں ترکی ، قطر، فرانس اور اسرائیل نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

6 روز قبل ہونے والے اس خفیہ اجلاس کا راز ایک ترک نامہ نگار نے فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان امریکی اور اسرائیلی خطوط پر چل پڑے ہیں، ذرائع کے مطابق قطر کے وزیر اعظم نے ترکی کے وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ سے ملاقات کی جس میں ملک عبداللہ نے کہا ہے کہ شام میں بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ وہ اب خلیجی ممالک کے لئے خطرہ بن گئی ہے ادھر قطر نے شام کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ شام میں امریکہ، اسرائيل اورترکی سمیت خلیجی ممالک عدم استحکام پیدا کرکے بشار اسد کی حکومت کو خۃم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بشار اسد کی واحد عرب حکومت ہے جو اسرائیل کی مخالف ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیجی عرب ممالک کے حکمرانوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر خطرناک کھیل شروع کیا جس میں ان کی شکست حتمی ہے بعض ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک کے عرب حکمراں امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو اس علاقہ میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ