16 مئی، 2010، 6:42 PM

حضرت فاطمہ زھرا (س)

حضرت فاطمہ زھرا (س) کا اخلاق و کردار

حضرت فاطمہ زھرا (س) کا اخلاق و کردار

حضرت فاطمہ(س) زھرا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جو دو سخا ، اعلیٰ افکارمیں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زھرا(س) اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جود و سخا ، اعلیٰ افکارمیں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی (ع) کے لئے ایک دلسوز، مھربان اور فدا کار زوجہ تھیں ۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر اسلام (ص)کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھلیت کی بت پرستی سے آپ کو سوں دور تھیں ۔ آپ نےشادی سے پہلے کی ۹سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴سال اپنے بابا  کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ (ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت،  اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گذارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت، گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گذرتا تھا ۔ فاطمہ (س) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب  میں پرورش پائی تھی  اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجودکے  ذرات میں گھل مل چکا تھا ۔

فاطمہ زھرا (س) نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الھٰی کو، سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچہ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوھر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا ۔  وہ اپنے گھر کے اموراور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوھر کے حق کا دفاع کرتی تھیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا  (س)کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول(ص) فاطمہ زہرا  (س)سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی۔  محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتےتھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا (س)سے ملنے  کے لئے جاتے تھے .

اور عزت و احترام کانمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س)  ان کے پاس آتی تھیں تو آپ تعظیم کو کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا(س)کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے  ساتھ نہ تھا .

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر (ص) کی نظر میں
سیدہ عالم کی فضیلت میں پیغمبر اسلام (ص)کی اتنی حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام کے سوا کسی دوسری شخصیت کے لیے نہیں ملتیں .
ان میں سے اکثر علماء اسلام میں متفقہ حیثیت رکھتی ہیں . مثلاً "آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں .ْ
ْایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں .,, تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ., »آپ کی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ,,»جس نے آپ کو ایذادی اس نے رسول کو ایذا دی., اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو معتبر کتابوں میں درج ہیں .

فاطمہ زہرا (س) پر پڑنے والی مصیبتیں
 افسوس ہے کہ وہ فاطمہ(س) جن کی تعظیم کو رسول اکر (ص)کھڑے ہوجاتے تھے بعدِ رسول (ص)اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف سے پھر گیا۔ ان پر طرح طرح کے ظلم ہونے لگے ۔علی علیہ السّلام سے خلافت چھین لی گئی۔ پھر آپ سے بیعت کا سوال بھی کیا جانے لگا اور صرف سوال ہی پر اکتفا  نہیں بلکہ  جبروتشدّد سے کام لیا جانے لگا. انتہا یہ کہ سیّدہ عالم کے گھر پر لکڑیاں جمع کردیں گئیں اور آگ لگائی جانے لگی . اس وقت آپ کو وہ جسمانی صدمہ پہنچا، جسے آپ برداشت نہ کر سکیں  اور وہی آپ کی شہادت کا سبب بنا۔ ان صدموں اور مصیبتوں کا اندازہ سیّدہ عالم  کی زبان پر جاری ہونے والے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے کہ

صُبَّت علیَّ مصائبُ لوانھّا  صبّت علی الایّام صرن لیالیا

یعنی مجھ پر اتنی مصیبتیں پڑیں کہ اگر وہ دِنوں پر پڑتیں تو وہ رات  میں تبدیل ہو جاتے۔

سیدہ عالم  کو جو جسمانی وروحانی صدمے پہنچے ان میں سے ایک،  فدک کی جائداد کا غصب کرنا بھی ہے جو رسول اسلام (ص) نے سیدہ عالم کو مرحمت فرمائی تھی۔ جائیداد کا چلاجانا سیدہ کے لئے اتنا تکلیف دہ نہ تھا جتنا صدمہ آپ کو حکومت کی طرف سے آپ کے دعوے  کو جھٹلانے کا ہوا. یہ وہ صدمہ تھا جس کا اثر سیّدہ کے دل میں مرتے دم تک با قی رہا اور آپ نے وصیت فرمائی کہ ان لوگوں کو میرےجنازے میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے جنھوں نے مجھے اذیت و آزار پہنچایا ہے اور آل رسول (ص)کے خلاف ظلم وستم کا دروازہ کھولا ہے.

News ID 1084271

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha