مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب لیگ کے سربراہ عمرو موسیٰ نے کہا ہے کہ اگر آزاد فلسطینی ریاست جلد از جلدقائم نہ ہوئی تو پھر اسرائیلوں اور فلسطینیوں کے ایک ہی وطن کی تجویز دی جائے گی۔
عمرو موسی نےسوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک پینل انٹرویو کے دوران کہا کہ دو پرامن ریاستوں کا نظریہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا تو پھر مختلف راستہ اپنانا ہوگا ۔ یہ راستہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی ایک ریاست کا ہے جہاں دونوں کو بطور شہری مساوی حقوق حاصل ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ ، مزاحمت ، بحران اور اس پر قابو پانے کی کوششوں پر مبنی صورت حال مزید جاری نہیں رکھی جاسکتی ۔ حالات بہتر بنانے کے لئے سب نے کوشش کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فلسطینی ریاست قائم ہوگی ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ پھر ایک ریاست ہوگی جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر مشتمل ہوگی انھوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ بہت سیاسی چال بازیاں کی گئی ہیںلیکن اب وہ کسی چال بازی کو قبول نہیں کریں گے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ عربوں نے کبھی بھی کھل کر فلسطین کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی انھوں نے کبھی امریکہ اور اسرائیل پر کوئي خاص دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے فلسطینی ساٹھ سال سے بیکسی اور مصیبت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فلسطین کے حل کے سلسلے میں بہترین تجویز پیش کی تھی جس میں کہا گيا تھا کہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے یہودی اپنے اپنے ممالک میں واپس جائیں اور فلسطین میں رہنے والے عیسائی ، یہودی اور مسلمان ملکر کر جمہوری حکومت قائم کریں اور اسی تجویز کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائدار حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ