مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے شہر ممبئی میں ہونے والےحملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان حملوں سے متعلق ثبوتوں کو حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ نے حملوں سے متعلق جتنے بھی ثبوت جمع کیے ہیں وہ اب حکومت پاکستان کو سونپ دیے جائیں گے اس کی اجازت ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی عدالت کےخصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے دی ہے۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے آج عدالت میں دو عرضیاں داخل کی تھیں جن میں انہوں نےممبئی حملوں سے متعلق کچھ ثبوت پاکستانی حکومت کے حوالے کیے جانے اور کیس کے پینتیس ملزمین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے جانے کی اپیل کی تھی۔ عرضي میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ وہ تمام ثبوت جو استغاثہ کے پاس موجود ہیں اور جو اس کیس کی بنیاد ہیں وہ انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے عدالت سے ان کی تصدیق شدہ کاپی چاہتے ہیں۔اس میں ملزم محمد اجمل قصاب کا اقبالی بیان ، ٹیلی فون کالز کی رپورٹ، قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل کی ڈی این اے رپورٹ وہ سامان جو کشتی الکوبیر سے حاصل کیا گیا تھا، شامل ہیں۔
ساتھ ہی ایڈوکیٹ نکم نے عدالت سے کیس کے 35 انتہائی اہم ملزمان جنہوں نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمین کو نہ صرف تربیت دی تھی بلکہ وہ ممبئی حملوں کی سازش رچنے کے بھی ملزم ہیں ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ملزمین میں لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی، ابو حمزہ، حافظ سعید سمیت پینتیس ملزمان شامل ہیں۔
گزشتہ سال 26 نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملے ہوئے تھے جن میں ایک 160 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
آپ کا تبصرہ