مہر خبررساں ایجنسی نے اخبار گارڈین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ آئندہ مہینے تہران میں اپنا سفارتی دفتر کھولنے کے پروگرام کا اعلان کرےگا گزشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی امریکی سفارت کار ایران بھیجا جائے گا۔ یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرنے کے لیے امریکہ نے بین الاقوامی مذاکرات میں اپنا ایک سفارت کار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے خبر کی تصدیق یا تردید سے انکار کردیا ہے۔اس سے پہلے کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی مذاکرات میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکہ کے سینیئر سفارتکار ولیم برنس ہفتہ کو جنیوا میں ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ
خاویر سولانا کی ملاقات میں شریک رہیں گے۔ امریکی ذارئع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسٹر برنس صرف سنیں گے، الگ سے کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔ امریکہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ جب تک ایران یورینیم کی افزودگی کو متوقف نہیں کرےگا اس وقت تک اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرےگا لیکن اب امریکہ نے اپنے غیر منطقی مؤقف کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ