مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے امریکی ٹی وی پی بی ایس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےاعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی ایران کی ایٹمی تنصیبات کے معائنہ اور ان پر اطمینان کے بعد ایران کو ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے اور اس بات پر سب کا اعتقاد ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کے لئے نہیں ہے انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اور ایران کو ایکدوسرے پر اعتماد نہیں ہے اور عدم اعتماد کا سلسلہ نصف صدی سے چلا آرہا ہے جب امریکی سی آئی اے نے 1953 میں ایران کی عوامی حکومت کو کودتا کے ذریعہ ختم کردیا تھا اور اسی طرح دیگر مسائل بھی ہیں جن کی بنا پر امریکہ اور ایران کو ایکدوسرے پر اعتماد نہیں ہے برادعی نے کہا کہ مغربی ممالک کو اس بات کا خوف ہے کہ ایران یورینیم افزودہ کرنے کے بعد ایٹم بم بنا لے گا اور ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران سے نکال دےگا اور پھر ایران حملہ کی سیاست اختیار کرےگا لیکن ایرانی کہتے ہیں کہ وہ اس میدان میں خود کفیل بننا چاہتے ہیں البرادعی نے کہا کہ ایرانیوں نے چونکہ این پی ٹی معاہدے پر دستخط کررکھے ہیں لہذا انھیں ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل ہے برادعی نے کہا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ انھیں جدید ٹیکنالوجی کی سخت ضرورت ہے اور وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کے لئے ایندھن خود فراہم کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرسکتے کیونکہ کل یہی ممالک کوئی اور بہانہ بنا کر ایران کی ایٹمی تنصیبات کے لئے ایندھن کی فراہمی روک سکتے ہیں برادعی نے کہا کہ امریکی چاہتے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے جبکہ یہ ایران کا حق ہے اور ایران اپنے حق سے کیسے دست بردار ہوسکتا ہے انھوں نے کہا کہ پابندیاں لگا کر اعتماد کی فضا بحال نہیں کی جاسکتی اور ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے
آپ کا تبصرہ