مہر خبررساں ایجنسی نے سی این این کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں صدر جارج بش کے ساتھ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ کے بارے میں دو روزہ بات چیت شروع کی ہے۔ دونوں رہنما افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں سویلین ہلاکتوں کے بارے میں بھی گفتگو کررہے ہیں۔ افغان صدر کی کوشش یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے تاکہ غیرملکی دہشت گرد پاکستانی سرحد کے ذریعے افغانستان میں داخل نہ ہوسکیں صدر کرزئی اور صدر بش کے درمیان ہونے والے دو روز کے مذاکرات کو طالبان مخالف ’لائحہٴ عمل‘ تیار کرنے کی ملاقات قرار دیا گیا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ جارج بش افغان صدر سے کہیں گے کہ وہ پورے ملک میں اپنی حکومت فعال بنائیں تاکہ کرپشن کا صفایا ہوسکے۔
آپ کا تبصرہ