مہرخبررساں ايجنسي نے بي بي سي ٹي وي اور فرانسيسي خبررساں ايجنسي كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ايران كي اعلي سلامتي كونسل كے سكريٹري علي لاريجاني نے كہا ہے كہ ہم مشتركہ راہ حل پيدا كرنے كے خواہاں ہيں اور اختلافات كو مذاكرات كے ذريعہ حل كرنے كے حق ميں ہيں لاريجاني نے بي بي سي سے خصوصي گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ ہم نے مصالحت كا راستہ بند نہيں كيا ہے اور مجھے يقين ہے كہ ہم بين الاقوامي بعض پيچيدہ امور كو گفتگو كے ذريعہ حل كرسكتے ہيں اور گفتگوہي ان مسائل كو حل كرنے كا بہترين راستہ ہے انھوں نے كہا كہ ہم ايٹمي ريسرچ كو ہرگز ترك نہيں كريں گے اور اس سلسلے ميں جو شبہات اور ابہامات پائے جاتے ہيں ان كو برطرف كرنے كي كوشش كريں گے انھوں نے كہا كہ دباؤ سے مذاكرات زيادہ مفيد ثابت ہوسكتے ہيں ايران كے ايٹمي معاملے كا بہترين حل مذاكرات ہي ميں پوشيدہ ہے اور مجھےايران كے ايٹمي ريسرچ پر مغربي ممالك كي برہمي پر سخت تعجب ہے لانيجاني نے كہا كہ ميں نے سنا ہے كہ ايك امريكي اہلكار نے كہا ہے كہ ايران كو ايٹمي تحقيق كا كوئي حق نہيں ہے اور اس كي اس بات كا دنيا ميں كوئي ملك خريدار نہيں ہے لاريجاني نے كہا كہ وہ لوگ ڈرتے ہيں كہ ايران ايٹم بم بنا لے گا جبكہ ايران كا ايٹمي پروگرام بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي كي نگراني ميں چل رہا ہے جس كي وجہ سے كسي انحراف كا كوئي امكان نہيں ہے اور نہ ہي ہم ايٹم بم بنانے پر ايمان ركھتے ہيں اور ہم نےايٹمي ايجنسي كے قوانين كا پہلے بھي احترام كيا ہے اور اب بھي ايٹمي ايجنسي كے ساتھ اس كے قوانين كي روشني ميں تعاون جاري ہے ليكن يورپي ممالك نے ہمارا مقابلہ كرنے كے لئے دباؤ اور جنگ كا راستہ اختيار كيا ہے مبصرين كا خيال ہے كہ دنيا ميں كونسا ايسا ملك ہے جو امريكہ اور يورپ كے لئے اپنے قومي اور ملكي مفادات كو نظر انداز كر دے گا ؟
آپ کا تبصرہ