مہرخبررساں ايجنسي كے سياسي نامہ نگار كي رپورٹ كے مطابق صدرڈاكٹر احمدي نژاد نے عراقي صدر جلال طالباني كا سركاري استقبال كرنے كے بعد پريس كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئےكہا كہ مستقل ، ترقي يافتہ اور جمہوري عراق ، ايران كا بہترين دوست ہوگا صدر نے كہا كہ بڑي خوشي كي بات ہے كہ ميں اس وقت اپنے قديمي دوست كا استقبال كررہا ہوں جس نے عراق كے سابق ڈكٹيٹر صدام كے خلاف جہادي لباس ميں جد جہد كو جاري ركھا اور بالآخر عراق ميں جمہوري نظام قائم كرنے ميں انھيں كاميابي مل گئي اور اس وقت وہ عراق كے اہم ترين منصب اور ذمہ داري كواپنے دوش پر لئے ہوئے عراقي عوام كي خدمت كررہے ہيں صدر احمدي نژاد نے كہا كہ عراقي اور ايراني عوام كے روابط ديرينہ ہيں اور ہم اس طرح ہيں جيسےايك روح دو پيكروں ميں ہو انھوں نے كہا كہ دين اسلام ، تہذيب و تمدن ، عراقي و ايراني عوام كے مفادات اور دونوں ممالك كے جغرافيائي شرائط نے دونوں قوموں كو آپس ميں متصل كرركھا ہے انھوں نے كہا كہ ہم اس پر خدا كا شكر ادا كرتے ہيں
عراقي صدر جلال طالباني نے بھي پريس كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہا ميں اپنے دوست اور برادر ملك ايران آيا ہوں تاكہ رہبر معظم انقلاب اسلامي اور صدر محترم اور دوسرے اعلي حكام كا شكريہ ادا كروں جنھوں نے ڈكٹيٹر صدام كے خلاف ہماري مدد اور رہنمائي كي عراقي صدر نے شيعوں كے ساتھ اتحاد كے سوال كا جواب ديتے ہوئے كہا كہ عراقي شيعوں كے ساتھ ہمارے پہلے سے اب گہرے ، مضبوط اور مستحكم روابط ہيں طالباني نے كہا كہ ميرے ايران سے 20 سال پرانے روابط ہيں طالباني نے كہا كہ ہم عراق ميں دہشت گردي كو ختم كرنے كے لئے ايران كے تجربيات سے استفادہ كريں گے عراقي صدر طالباني نے كہا كہ دہشت گرد سب كے خلاف اقدام كريں گے لہذا ايك مستقل اور مضبوط عراق خطے كے مفادات ميں ہے ياد رہے كہ 4 دہائيوں كے بعد كسي عراقي صدر كا ايران كا يہ پہلا دورہ ہے طالباني كرد اہلسنت سے تعلق ركھتے ہيں اور وہ آج ايك اعلي سطحي وفد كے ہمراہ ايران كے تين روزہ دورے پر تہران پہنچے ہيں
آپ کا تبصرہ