مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی مزاحمت کی کارروائیوں کے نتیجے میں 17 فوجی زخمی ہوئے۔
ادھر لبنان کی اسلامی مزاحمت نے متعدد ڈرون حملوں کے ذریعے جنوبی لبنان اور شمالی مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فوج کے اجتماع اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
مزاحمتی تنظیم نے لبنان کے قصبے خیام میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو خودکش ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعوی کیا اور کہا کہ ڈرون اپنے ہدف پر کامیابی سے جالگا۔
اسی طرح جنوبی لبنان کی سرحد پر واقع قصبے العدیسہ میں تل العویضہ کے مقام پر اسرائیلی فوجی اجتماع کو بھی خودکش ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے مزید بتایا کہ الناقورہ کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں اور ان کی گاڑیوں پر خودکش ڈرونز کے ایک گروپ کے ذریعے حملہ کیا گیا۔
اسی سلسلے میں مقبوضہ فلسطین کے قصبے رشاف کے علاقے البرکہ میں موجود اسرائیلی فوجی مرکز کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج کا ایک بلڈوزر خودکش ڈرون کے براہ راست حملے سے تباہ کر دیا گیا۔
مزید برآں حزب اللہ نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں واقع کریات شمونہ میں فوجی اڈے کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا اعلان کیا، تاہم اس حملے میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
یہ حملے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں جو 2 مارچ سے جاری ہیں اور جن کے نتیجے میں ہزاروں لبنانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے گاؤں حاروف پر فضائی حملہ کیا جس میں تین امدادی کارکن شہید ہو گئے۔
اس حملے کے بعد ایک بار پھر اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امدادی اور طبی عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 951 افراد شہید اور 8 ہزار 988 زخمی ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر صور کے مختلف علاقوں پر تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 37 شہری زخمی ہوئے۔
لبنان میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور ان میں عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ