7 اپریل، 2026، 7:09 PM

اصفہان میں ناکام امریکی آپریشن

اصفہان میں ناکام امریکی آپریشن

پریس ٹی وی کے مطابق ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے اصفہان میں امریکہ کے ناکام آپریشن سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اصفہان آپریشن سے پہلے ہونے والی کارروائیوں کے دوران امریکہ اور ممکنہ طور پر اسرائیل نے کم از کم ایک اے-10 جنگی طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کھودئیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے اصفہان میں امریکہ کے ناکام آپریشن سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اصفہان آپریشن سے پہلے ہونے والی کارروائیوں کے دوران امریکہ اور ممکنہ طور پر اسرائیل نے کم از کم ایک اے-10 جنگی طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کھودئیے۔

عہدیدار کے مطابق اس ناکام آپریشن کا وقت ایک خفیہ اجلاس میں وائٹ ہاؤس میں طے کیا گیا تھا جس کی نگرانی خود امریکی صدر کر رہے تھے۔

اس کارروائی کا اس دعوے سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ یہ کسی گرائے گئے جنگی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ امریکی پائلٹ کو صوبہ کہگیلویہ و بویراحمد کے پہاڑی علاقوں میں تلاش کیا جارہا تھا جبکہ یہ آپریشن صوبہ اصفہان میں کیا گیا جس کے تحت خفیہ نگرانی کے نتیجے میں اصفہان کی ایک جوہری تنصیب کے قریب واقع ایک متروک ایئر فیلڈ کو امریکی سی-130 طیاروں کی لینڈنگ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خصوصی آپریشن کا مقصد اصفہان کی ایک جوہری تنصیب میں دراندازی اور اسے نشانہ بنانا تھا۔ تاہم امریکی منصوبہ سازوں نے غلط اندازہ لگایا اور یہ سمجھا کہ ایران کا فضائی دفاع اس کارروائی کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ امریکی فوج کے چند سابق جرنیلوں نے اس آپریشن کے بڑے خطرات کے بارے میں وزیر دفاع کو خبردار کیا تھا، مگر فوجی معاملات میں کم تجربہ رکھنے والے وزیر دفاع اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اصرار کے باعث ان جرنیلوں کو آپریشن سے چند روز قبل ہی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ متعدد طیاروں کو اس کارروائی کے لیے بھیجا گیا، جبکہ ایران کی مسلح افواج مکمل چوکس تھیں اور ان کے انتظار میں تھیں۔ یوں امریکی خصوصی دستے دراصل ایرانی فورسز کے جال میں پھنس گئے۔ ایرانی مسلح افواج، جن میں فوج، پولیس فورس، سپاہ پاسداران اور مقامی رضاکار شامل تھے، نے ابتدا میں اس وقت فوری ردعمل نہیں دیا جب پہلا سی-130 طیارہ متروک ایئر فیلڈ پر اترا۔ اس طیارے میں درجنوں امریکی کمانڈوز سوار تھے۔ شواہد کے مطابق لینڈنگ کے دوران یہ طیارہ رن وے سے کچھ حد تک ہٹ بھی گیا۔ چند منٹ بعد دوسرا سی-130 طیارہ بھی وہاں پہنچا جس میں خصوصی گاڑیاں، ایم ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر اور دیگر ضروری سامان موجود تھا۔

اسی لمحے موقع پر موجود ایرانی فورسز نے دوسرے طیارے کو لینڈنگ سے پہلے ہی نشانہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں اس کی لینڈنگ معمول کے بجائے ہنگامی لینڈنگ میں بدل گئی۔ اس کے بعد دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی وہاں پہنچ گئے۔ طیارے، ہیلی کاپٹر اور پہلے طیارے سے اترنے والے کمانڈوز ایرانی فورسز کے لیے آسان ہدف بن گئے۔

جب امریکی خصوصی دستوں کو اندازہ ہوا کہ وہ ایرانی فورسز کے جال میں پھنس چکے ہیں تو جوہری تنصیبات میں دراندازی کا اصل منصوبہ فوری طور پر تبدیل کر کے انڈر فائر امریکی کمانڈوز کو نکالنے کی کارروائی میں بدل دیا گیا۔ امریکہ نے فوری طور پر مزید چھوٹے طیارے علاقے میں بھیجے تاکہ اپنے کمانڈوز کو نکال سکے، اور بڑی مشکل سے انہیں وہاں سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا گیا۔

یہ انخلا اتنی جلدی اور عجلت میں کیا گیا کہ کئی امریکی فوجی اپنی ذاتی اشیا اور سامان وہیں چھوڑ کر جان بچا کر نکل گئے۔ ان شواہد میں ایک امریکی افسر کی شناختی دستاویزات بھی شامل ہیں جو علاقے میں ملیں۔

کمانڈوز کے نکل جانے کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے تقریباً پانچ کلومیٹر کے دائرے میں شدید فائرنگ اور بمباری کی تاکہ ایرانی فورسز متروک ایئر فیلڈ پر چھوڑے گئے سی-130 طیاروں کے قریب نہ پہنچ سکیں۔ اسی دوران امریکی طیاروں نے اپنے باقی ماندہ فوجی سازوسامان کو بھی شدید بمباری سے تباہ کر دیا تاکہ ایرانی فورسز کے ہاتھ نہ لگ سکے۔

اس ناکام آپریشن میں امریکی خصوصی دستوں کو اپنے لٹل برڈ ہیلی کاپٹر تک اڑانے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ بعض ہیلی کاپٹر زمین پر ہی تباہ ہوگئے جبکہ کچھ دوسرے سی-130 طیارے کے اندر ہی تباہ کر دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس شرمناک ناکامی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد بازی اور پریشانی کے عالم میں اسے ایک پائلٹ کی ریسکیو کارروائی کے طور پر پیش کیا۔

News ID 1938787

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha