6 اپریل، 2026، 5:27 PM

امریکی جدید جنگی طیارے تباہ، ایران کی دفاعی طاقت نے سب کو حیران کر دیا

امریکی جدید جنگی طیارے تباہ، ایران کی دفاعی طاقت نے سب کو حیران کر دیا

معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق ایران کے فوری اور عملی ردعمل نے امریکا اور اسرائیل کی فوجی حکمت عملی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کے فوری اور عملی ردعمل نے امریکا اور صہیونی ریاست کے کئی حساب کتاب کو درہم برہم کر دیا ہے۔

ان کے مطابق چند ہی روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے فخر کے ساتھ ایران کی فضائی اور بحری طاقت کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ایران نے عملی کارروائی کرتے ہوئے مختصر عرصے میں تین جدید جنگی طیارے مار گرائے، جن میں ایک ایف-35، ایک ایف-15 اور ایک اے-10 شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک جدید پیشگی خبردار کرنے والا طیارہ بھی تباہ کیا گیا، جو خطے کے ایک فوجی اڈے پر تعینات تھا اور جدید نگرانی کے نظام سے لیس تھا۔

عبدالباری عطوان نے زور دیا کہ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے پاس جدید دفاعی نظام موجود ہیں، جن میں جدید میزائل اور اعلیٰ درجے کے ریڈار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حوادث نے امریکا اور صہیونی ریاست کی فوجی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ انہوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت کا اس سطح پر اندازہ نہیں لگایا تھا۔

ان کے مطابق ایس-300 اور ممکنہ طور پر ایس-400 جیسے نظاموں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تیار کردہ 15 خرداد جیسے دفاعی نظاموں نے ان کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ بعض جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اطلاعات بھی ہیں جن کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابیاں امریکا اور صہیونی ریاست کی فضائی برتری کے خاتمے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں اور ایران کے دفاعی ڈھانچے میں موجود ایک بڑی کمزوری کو دور کر سکتی ہیں۔

عبدالباری عطوان نے خاص طور پر ایف-35 طیارے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے امریکا کی فوجی صنعت کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے سیاسی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت امریکا کی اندرونی اور عالمی حیثیت کے لیے بھی ایک دھچکا ہے، کیونکہ اعلان کردہ اہداف حاصل کیے بغیر جنگ جاری رکھنے سے امریکا کے اندر بے چینی میں اضافہ ہوا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے امریکی فوج کے اندر اختلافات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اعلیٰ کمانڈروں نے جنگ کی حکمت عملی پر اعتراض کیا ہے، جو فیصلہ سازی کے نظام میں ممکنہ بحران کی علامت ہو سکتا ہے۔

News ID 1938776

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha