مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کے سترہویں روز کو ماہرین خطے میں جاری کشیدگی کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں روایتی فوجی تصادم بتدریج ایک طویل اور معاشی پہلوؤں سے جڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت درست نشانہ بنانے والے میزائلوں اور کم لاگت خودکش ڈرونز کے استعمال سے مخالف اتحاد کے لیے لاگت اور توازن بدلنے کی کوشش کی ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف محاذوں پر پھیلتی کشیدگی اور مشترکہ حملوں کو روکنے میں مغربی فضائی دفاعی نظام کو درپیش مشکلات کے باعث آئندہ ہفتے امریکا اور اسرائیل ممکنہ طور پر علاقائی طاقتوں کے ذریعے عارضی جنگ بندی کی کوشش کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب خاتم الانبیا سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بحیرۂ احمر میں امریکی طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کی موجودگی کو ایران کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس بحری بیڑے کو لاجسٹک اور سروس فراہم کرنے والے مراکز ایرانی مسلح افواج کے ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ