مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مجید خادمی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں پرتشدد اور دہشت گردانہ فسادات کو ہوا دینے کے لیے ایک منظم اور کثیرالجہتی سازش ترتیب دی تھی جس کا مقصد نظام پر دباؤ بڑھانا اور حالات کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت نے حالیہ فسادات کے لیے سات مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کا پہلا ہدف احتجاج کو بھڑکانا اور پھر اسے ملک گیر ہڑتالوں میں تبدیل کرنا تھا تاکہ سیاسی نظام پر غیر محسوس مگر مؤثر دباؤ ڈالا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مراحل میں اس مقصد کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ دشمنوں نے اپنے ایجنٹوں کو سیکیورٹی مراکز اور اڈوں پر حملوں کی ہدایت دی تاکہ قومی سلامتی کے ڈھانچے کو کمزور کیا جاسکے۔ یہ طرز عمل گزشتہ برس جون میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی بارہ روزہ جارحیت سے مشابہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ بعض موارد میں اموات کے بارے میں من گھڑت خبریں پھیلائی گئیں تاکہ عوامی جذبات کو ابھارا جائے اور بیرونی فوجی مداخلت کے لیے فضا ہموار کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے اسلامی نظام کو اقتصادی، سماجی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی، تاکہ حکومت مخالف گروہوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ نظام کی تبدیلی ممکن ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ دشمن عناصر نے سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کے ذریعے عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور حکومت کو نااہل ثابت کرنے کی کوشش کی، تاکہ روزمرہ زندگی متاثر ہو اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاجی مراکز کو دہشت گرد عناصر سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور سرحدی علاقوں سمیت ملک کے اندر دہشت گرد گروہوں کو متحرک کیا گیا۔ بیرونی حمایت حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر امریکا کی خصوصی کارروائیوں یا فوجی حملوں کی راہ ہموار کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
بریگیڈیئر جنرل خادمی نے کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر خطیر رقوم خرچ کی گئیں، حتی کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے فنڈنگ کی گئی، اور سوشل میڈیا گروہوں، مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد اور مقامی شرپسند عناصر کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔
جنرل خادمی نے کہا کہ حکومت، پارلیمنٹ اور داخلی سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد نے دشمن کی سازش کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن مظاہرین اور پرتشدد عناصر میں فرق کرتے ہوئے تخریبی کارروائیوں کا فیصلہ کن جواب دیا۔
آپ کا تبصرہ