مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے خودساختہ صدر ابو محمد الجولانی اور عراق کے وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی کے درمیان ایک ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی اہمیت پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس ٹیلی فونک رابطے میں فریقین نے دہشت گرد گروہوں، بالخصوص دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف سکیورٹی تعاون اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔
اسی دوران ابو محمد الجولانی نے اقلیم کردستان عراق کے صدر مسعود بارزانی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس رابطے میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور استحکام و سلامتی کو مضبوط بنانے کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
شام کے خودساختہ صدر نے اس گفتگو کے دوران مسعود بارزانی سے خطاب کرتے ہوئے شام میں کردوں کے حقوق، جن میں ان کے قومی، سیاسی اور شہری حقوق شامل ہیں، کے تحفظ پر زور دیا۔
یہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شامی ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے ترجمان نے آج عراقی کردستان کے چینل روداو کو بتایا کہ مشرقی شام کے صوبہ حسکہ کے مضافات میں واقع الشدادی جیل سے داعش کے تقریباً ۱۵۰۰ دہشت گرد فرار ہو چکے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ داعشی عناصر کو جان بوجھ کر آزاد کیا گیا ہے تاکہ شام کے ہمسایہ ممالک اور پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے، جبکہ مختلف علاقوں میں ان عناصر کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں کے خدشات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جولانی حکومت نے واشنگٹن کی مدد سے داعش کے فرار ہونے والے قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
آپ کا تبصرہ