افغانستان میں امریکہ کی ناکامی/ پائیدار امن باہمی تعاون پر مبنی حکومت کے سائے میں حاصل ہوتا ہے

افغانستان کے امور میں نمائندہ خصوصی نے کہا کہ بلاتردید امریکہ نے افغانستان میں شکست کھائی ہے اور اس شکست کی کئی وجوہات ہیں؛ سب سے پہلے وہ مزاحمت تھی جو مجاہدین منجملہ طالبان نے ان کے خلاف انجام دی، یہ ایک حقیقت ہے۔ 

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے امور میں ایرانی صدر کے نمائندہ خصوصی حسن کاظمی قمی نے ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر وہاں کی تازہ ترین صورتحال پر اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج افغانستان میں بجلی کی پیداوار ۳۰۰ میگاواٹ ہے جبکہ ملک میں ۷۰۰ سے ١۰۰۰ میگاواٹ تک بجلی فراہم کی جارہی ہے جو پڑوسی ممالک سے لی جاتی ہے۔ لہذا ان حالات کے ہوتے ہوئے وہاں کوئی صنعت اور سہولیات نہیں ہوں گی۔ یہ وہ کام ہے جو امریکیوں نے کیا ہے۔ 

افغانستان کے امور میں نمائندہ خصوصی نے کہا کہ بلاتردید امریکہ نے افغانستان میں شکست کھائی ہے اور اس شکست کی کئی وجوہات ہیں؛ سب سے پہلے وہ مزاحمت تھی جو مجاہدین منجملہ طالبان نے ان کے خلاف انجام دی، یہ ایک حقیقت ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ جو زیادہ اہم تھا، امریکہ پرعوام کا عدم اعتماد تھا اور تیسرا مسئلہ امریکیوں کی سماج میں پنپتے رویوں اور اصولوں من جملہ ثقافتی مسائل اور افغانستان کے قومی مفادات پرعدم توجہ تھی۔

کاظمی قمی نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کی اتحاد افواج من جملہ نیٹو کی افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فوجی تھے تاہم امریکی حاضر نہیں ہوتے ہیں کہ دوسروں کے مفادات کویقینی بنائیں اور افغانستان میں مشخص طور پر ایسا ہی ہوا۔  

ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے دہشت گردوں کے مقابلے میں ایک منظم اور پیشہ ورانہ فوج بننے نہیں دی اور اسی طرح عوامی مزاحمت کا راستہ بھی روکا کہ جس نے سرخ افواج کے سامنے استقامت دکھائی تھی۔ 

ایرانی صدر کے نمائندہ خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے انخلا کے بعد افغانستان میں حرج و مرج پیدا کرنے کے درپے تھا۔ جبکہ وہ افغان افغان مذاکرات کے نعرے لگا رہا تھا تاہم آپ جب نظر دوڑائیں تو جو چیز امریکیوں کے لئے اہمیت نہیں رکھتی تھی وہ اس قسم کے مذاکرات ہی تھے۔  کاظمی نے زور دے کر کہا کہ امریکیوں نے شکست کھائی اور افغانستان سے بھاگ گئے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے افغانستان کو چھوڑ دیا ہے۔ 

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے انخلا کے بعد دور کھڑے ہوکر اپنی شرارتوں کو جاری رکھا۔ دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کا جو دعوی امریکی کرتے ہیں ایک جھوٹا دعوی ہے جبکہ دہشتگردی ایجاد کرنے والے امریکی ہی تھے۔ خود امریکیوں کے اعتراف کے مطابق داعش کو انہوں نے ہی بنایا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ شام میں ١۷۰۰ کے قریب چھوٹے دہشتگرد گروہ تھے جو سب کے سب امریکہ کے اتحادی تھے۔ امریکیوں نے کہیں پر بھی دہشت گردی سے جنگ نہیں کی ہے۔

کاظمی قمی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کے بھاگنے کے بعد ہم افغانستان کے اندرداعش کے ظہور کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور اس وقت بھی داعش کے بعض سرکردہ رہنماوں اور کمانڈروں کو امریکیوں کی مدد سے افغانستان کے بعض علاقوں میں لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کے ساتھ بعض بڑے بم دھماکوں میں سابقہ حکومت کے سیکورٹی اداروں کے کچھ اہلکاروں کا تعاون شامل تھا۔    

نمائندہ خصوصی نے کہا کہ افغانستان آج بھی امریکہ کے لئے بدستور اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ افغانستان کو استحکام اور پائیدار امن و سلامتی کی جانب جانے نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افغانستان کے تعمیر و ترقی کی جانب بڑھنے کو وہاں پر امریکہ کے رقیب ملکوں من جملہ چین اور ایران کی موجودگی سے تعبیر کرتے ہیں۔  

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور اقدام جو امریکہ افغانستان میں کر رہا ہے گزشتہ رجیم کی مسلح افواج کی ایک بڑی تعداد کو تربیت دے کر منظم کر رہا ہے۔ ان افراد میں سے تقریباً ۷ ہزار افراد پر امریکہ کے اندر کام ہو رہا ہے تا کہ اپنے آئندہ کے منصوبوں میں ان سے کام لیا جاسکے۔ 
کاظمی قمی نے زور دے کر کہا کہ امریکی اس کوشش میں ہیں کہ شیعہ سنی اور اسی طرح مخلتف قوموں کے مابین خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی جائے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی اس کوشش میں بھی ہیں کہ طالبان اور اسلامی جمہوریہ ایران آپس میں لڑ پڑیں۔ ایک مسئلہ جو ہماری بنیادی پالیسی کا حصہ تھا یہ ہے کہ امریکہ کےاس منصوبے کے تحت نہ چلیں۔ 

افغانستان کے امور میں ایرانی صدر کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ افغانستان میں امریکی موجودگی کے دور میں صنعتی منشیات بنانے کی ۵۰۰۰ لیبارٹریز بنائی گئیں اور ان مراکز کے بنائے جانے میں امریکیوں اور امریکہ سے وابستہ مافیا کا بنیادی کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خشخاش کا جو نمونہ افغانستان میں لگایا جاتا ہے وہ برطانوی نمونہ ہے جو ایک سال میں تین مرتبہ کاشت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا منشیات سے سب زیادہ فائدہ برطانیہ اور امریکہ کے مافیا اور ان سے وابستہ افراد کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی بات سبب بنی کہ آج افغانستان کی ١۰ فیصد آبادی منشیات کی عادی ہے جو افغانستان کی عوام کے لئے ایک سماجی اور معاشی مسئلہ ہے۔ 

کاظمی قمی نے اپنی گفتگو کے آخر میں زور دے کر کہا کہ پائیدار امن و سلامتی تعاون پر مبنی حکومت کے سائے میں حاصل ہوتے ہیں جبکہ ہمسایہ ممالک کو جدید افغانستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کل کے قابضین کو آج تعمیر و ترقی کے قالب میں افغانستان میں داخل نہیں ہونا چاہئے۔

News Code 1912021

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha