پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر داخلہ سمیت 150 افراد پر مقدمات درج

پاکستان کے موجودہ وزير اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے کے دوران مسجد النبی(ص) میں ان کے خلاف پاکستانی شہریوں کی نعرے بازی کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے 150 افراد پر توہین مذہب کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ وزير اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے کے دوران مسجد النبی(ص)  میں ان کے خلاف پاکستانی شہریوں کی نعرے بازی کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے  150 افراد پر توہین مذہب کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے دورے کے دوران  مسجد نبوی (ص)  کے احاطے میں موجودہ حکومتی ارکان کے خلاف نعرے بازی کا واقعہ پیش آیا ، پاکستانی شہریوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور اس کے ہمراہ وفد کو دیکھ کر چور چور کے نعرے لگائے۔  جس پر سعودی عرب کی انتظامیہ نے کچھ پاکستانیوں کو گرفتار بھی کیا ۔

واقعے پر جہاں سعودی عرب میں کارروائی ہوئی وہیں پاکستان میں پنجاب کے مختلف شہروں میں کچھ لوگوں کی درخواست پر تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر داخلہ شیخ شید، سابق وزرا، مرکزی رہنماؤں سمیت ڈیڑھ سو افراد پر مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں نے مسجد نبویؐ واقعے کی ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت پر عائد کی ہے۔

اس واقعے کے تناظر میں ایک مقدمہ تھانہ نیو ایئرپورٹ اٹک میں بھی مقامی شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے جب کہ فیصل آباد پولیس کے مطابق ایک مقدمہ محمد نعیم نامی شہری کی درخواست پر تھانہ مدینہ ٹاؤن میں بھی درج کیا گیا۔

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ منصوبہ بندی کے بعد پیش آیا، 150 افراد اس کے لیے یہاں سے سعودی عرب گئے، واقعے کی بعد سوشل میڈیا پر پوسٹس کی گئیں ۔ تھانہ نیو ائیرپورٹ اٹک میں درج کی جانے والی ایف ائی آر نمبر 84، تعزیرات پاکستان کی دفعات، 295، 295 اے اور 296 کے تحت قاضی طارق ایڈووکیٹ کے بیان ہر درج کی گئی۔

ایف ائی آر میں مدعی مقدمہ نے موقف اختیار کیا کہ 28 اپریل کے مسجد نبویﷺ میں ہونے والے دل خراش واقعہ نے شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا تحریک انصاف کے رہنماؤں عمران خان، شیخ رشید فواد چودھری، شہباز گل، مراد سعید، قاسم سوری کی مشاورت و منصوبہ بندی اور اعانت مجرمانہ سے یہ سب کیاگیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے ہمراہ وفد نے مسجد النبی کی زيارت کی جس کے بعد وہاں موجود پاکستانیوں نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی  اور ان پر مالی فساد کے الزامات عائد کئے۔

News Code 1910705

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 6 =