ترک صدر اردوغان نے فلسطینی عوام کی پشت میں خنجر گھونپ دیا

فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کے رکن نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی طرف سے اسرائیلی صدر کی دعوت، خیرمقدم اور استقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر نے فلسطینی عوام اور فلسطینی بچوں کے قاتل کو دعوت دیکر فلسطینی عوام کی پشت میں خنجر گھونپ دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کے رکن یوسف الحساینہ  نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی طرف سے اسرائیلی صدر کی دعوت،  خیرمقدم اور استقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر نے فلسطینی عوام اور فلسطینی بچوں کے قاتل کو دعوت دیکر فلسطینی عوام کی پشت میں خنجر گھونپ دیا ہے۔ جہاد اسلامی کے رکن نے کہا کہ اسرائيل کی حکومت ناجائز اور غیر قانونی حکومت ہے ۔ اسرائيل کے صدر کو ترکی نے دعوت دیکر اپنا منافقانہ چہرہ دنیائے اسلام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئي عرب ممالک کی طرف  ترکی بھی فلسطینیوں کے ساتھ غداری اور خيانت پر اتر آيا ہے۔

ادھر ترکی کے ملی گزٹ اخبار " Milli Gazete "  نے اسرائيلی صدر اسحاق ہرٹوزک کے دورہ ترکی پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اخبـار کی سرخی اس طرح  لگائی ہے کہ "  فلسطینی بچوں کے قاتل ترکی پہنچ گئے"۔ اخبار کے مطابق صدر اردوغان نے فلسطینی عوام اور بچوں کے قاتل صہیونیوں کو بھائی قراردیکر فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ ترک اخبار نے اسرائیلی صدر کے دورہ ترکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے پہلے صفحہ کی سرخی  اس عنوان سے " قاتل انقرہ پہنچ گيا"  لگائی ہے۔ ترکی کے غیر سرکاری اداروں نے اسرائیلی صدر کے دورہ ترکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترک صدر اردوغان کی طرف سے اسرائیلی صدر کی میزبانی کرنے کے اقدام کو ظالمانہ، منافقانہ اور احمقانہ قراردیا ہے۔ ادھر ترک صدر نے صہیونیوں کو اپنا بھائی قراردیکر فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔دوسری طرف فلسطینی تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی نے اسرائيل کے صدر کو ترکی کے دورے کی دعوت دینے کے صدر اردوغان کے اقدام کو غیر تعمیری قراردیا ہے۔

News Code 1910135

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha