بیلاروس میں روس اور یوکرائن کے سفارت کاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز

بیلاروس میں روسی اور یوکرائنی سفارت کاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں فریقین دس نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بیلاروس میں روسی اور یوکرائنی سفارت کاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں فریقین دس نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرائن کے خلاف فوجی آپریشن کو پانچ روز ہوگئے ہیں جس میں ہلاکتوں اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

روس کی فوجیں یوکرائن کے دارالحکومت میں پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوچکی ہیں ۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتین نے نیوکلیئر فورس کو جنگ کے لیے فوری طور پر تیار اور مستعد رہنے کا حکم دیا ہے ۔ جبکہ یورپی ممالک نے بھی نیوکلیئر فورس کو تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بیلاروس میں روس اور یوکرائن کے درمیان کسی بھی پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جہاں فریقین تنازع پر جنگ کے بجائے سفارتی حل پر بات چیت کررہے ہیں۔

روسی صدر پوتین نے مذاکرات کاروں کو گذشتہ روز بیلاروس بھیجا تھا تاہم یوکرائنی صدر نے سابق مینسک معاہدے کے غیر فعال ہونے پر بیلا روس کے بجائے کسی دوسرے شہر میں مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔ یوکرائنی صدر بعد میں بیلاروس میں مذاکرات پر راضی ہوگئے۔ مبصرین یوکرائن جنگ کا اصلی ذمہ دار بھی امریکہ اور یورپ کو ٹھہرا رہے ہیں۔ جنھوں نے روس کی سرحد کے قریب عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کررکھی ہیں ۔ روس امریکہ اور یورپی ممالک کی ان کوششوں کو روس کی قومی سلامتی کے خلاف سمجھتا ہے اور اس سے قبل امریکہ اور یورپی ممالک کو متعدد بار خـردار بھی کرچکا ہے ۔ روس نے یوکرائنی میں نیٹو کے ایک اہم ہدف کو بھی تباہ کردیا ہے۔ یوکرائنی کے وفد نے بیلاروسم ذاکرات میں یوکرائنی سے روسی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

News Code 1910008

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 1 =