ایرانی وزیر خارجہ کی افغانستان کے منجمد مالی اثاثوں کو آزاد کرنے پر تاکید

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں او آئي سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کی فوری امداد کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان فنڈ کا قیام ضروری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں او آئي سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کی فوری امداد کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان فنڈ کا قیام ضروری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ ، او آئی سی کے جنرل سکریٹری اور میزبان ملک کے وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی المیہ کو روکنے کے لئے جلد از جلد اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم نے پہلے بھی افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑا اور آج بھی افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں۔ افغانستان کو اس وقت فوری طور پر اقتصادی امداد کی ضرورت ہے۔

حسین امیر عبداللہیان نے افغانستان میں پائدار امن و صلح کو ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے مفاد میں قراردیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہمہ گير اور جامع حکومت کی تشکیل سے افغانستان میں پائدار امن قائم ہوسکتا ہے۔

افغانستان کے عوام کی مدد کے لئے ایران کی تجاویز

ایرانی وزیر خارجہ نے افغانستان کے عوام کی امداد کے لئے اپنی پہلی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک افغانستان کی عبوری حکومت کو جامع اور ہمہ گير حکومت تشکیل دینے کی سفارش اور تشویق کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نےدوسری تجویزمیں افغانستان کے عوام کی فوری اور بشر دوستانہ امداد کے لئے اسلامی ممالک کے درمیان فنڈ کے قیام پر زوردیا ہے۔

حسین امیر عبدالہیان نے اپنی تیسری تجویز میں افغان عوام کے منجمد مالی اثاثوں کو آزاد کرنے پر زوردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی چوتھی تجویز میں کہا ہے کہ افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کی تشکیل میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اہم کردار ادا کرکے افغانستان کو انسانی المیہ سے بچا سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام پر اسرائيل مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو فلسطین کی آزادی کے بارے میں بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے اور بیت المقدس کے محور پر فلسطینی حکومت کے قیام کے سلسلے میں اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جمہوریت اور ریفرنڈم فلسطینی مسئلہ کا واحد حل ہے جس میں فلسطین کے مسلمان، عیسائی اور یہودی شرکت کرسکتے ہیں۔

News Code 1909205

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha