مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی اٹارنی جنرل بل بار نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے قتل کے جرائم میں ملوث 5 قیدیوں کی سزائے موت کی تاریخ طے کرتے ہوئے 16 سال بعد موت سزا کو بحال کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پر تشدد جرائم پر سخت سزا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بل بار نے فیڈرل بیورو آف پرزنز (وفاقی جیل حکام) کو سزائے موت کے لیے جان لیوا انجیکشن کا طریقہ اپنانے کا کہا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں کی جانب سے ریاستی جرائم پر سزائے موت کے 25 کیسوں پر عمل در آمد کیا جا چکا ہے۔بل بار نے اپنے بیان میں کہا کہ جسٹس ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے اور اور ہم عدلیہ کے فیصلوں پر متاثرین اور ان کے اہلخانہ کے لیے عمل در آمد کر رہے ہیں۔انہوں نے بیورو آف پرزنز کو ایک زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل در آمد کے احکامات دیے جبکہ اس سے قبل 3 انجیکشن استعمال کیے جاتے تھے۔
امریکی اٹارنی جنرل بل بار نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے قتل کے جرائم میں ملوث 5 قیدیوں کی سزائے موت کی تاریخ طے کرتے ہوئے 16 سال بعد موت سزا کو بحال کردیا ہے۔
News ID 1892455
آپ کا تبصرہ