سعودی ذرائع ابلاغ کا حشد الشعبی کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈہ

عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کےحشد الشعبی کے بارے میں فرمان پر سعودی عرب آگ بگولہ ہوگیا ہے اور سعودی ذرائع ابلاغ نے عراقی وزیر اعظم کے فرمان اور حشد الشعبی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے آغاز کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق عراق کی رضاکار فورس "  حشد الشعبی " کے بارے میں عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کے فرمان پر سعودی عرب آگ بگولہ ہوگیا ہے اور سعودی ذرائع ابلاغ نے عراقی وزیر اعظم کے فرمان اور حشد الشعبی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے آغاز کردیا ہے۔

عراق کے وزير اعظم عادل عبدالمہدی نے حال ہی میں حشد الشعبی کے بارے میں 10 شقوں پر مشتمل ایک فرمان جاری کیا ہے جس میں عراقی پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کے نفاذ اوررضاکار فورس " حشد الشعبی " کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گيا ہے۔ عراقی وزیر اعظم کے فرمان کے مطابق حشد الشعبی فورس ، عراق کی مسلح افواج کا اٹوٹ حصہ ہیں اور مسلح افواج کے تمام قوانین کا اطلاق حشد الشعبی پر بھی ہوگا ۔ حشد الشعبی میں شامل تمام گروہوں کو سیاسی تنظیموں سے اپنے تمام تعلقات منقطع کرنے ہوں گے اور جو گروہ مسلح افواج میں ضم نہیں ہونا چاہتے وہ سیاسی احزاب کے زیر نظر رہ سکتے ہیں۔ عراقی وزير اعظم کے فرمان کے مطابق حشد الشعبی کے زیر کنٹرول تمام چھاؤنیوں کو منظم اور مرتب کیا جائے گا ۔ عراقی وزیر اعظم کے فرمان کے مطابق آئندہ 30 دنوں میں حشد الشعبی باقاعدہ طور پر عراق کی مسلح افواج کا حصہ بن جائےگی۔

ادھر سعودی عرب کے حکام عراقی وزیر اعظم کے اس فرمان پر آگ بگولہ ہوگئے ہیں اور آل سعود سے وابستہ  ذرائع ابلاغ نے عراق کے وزير اعظم کے اس فرمان کے خلاف وسیع پیمانے پر گمراہ کن پروپیگنڈے کا آغاز کردیا ہے۔ آل سعود سے وابستہ چینل العربیہ نے جھوٹا پروپیگنڈے شروع کرتے ہوئے کہا کہ عراقی وزير اعظم نے حشد الشعبی سے متعلق تمام چھاؤنیوں کو بند کردیا ہے۔ العربیہ نے حشد الشعبی کو عراقی مسلح افواج میں ضم کرنے کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔

سعودی عرب کے دوسرے چینل الحدث نے بھی العربیہ کی طرح عراقی وزیر اعظم کے فرمان کو حشد الشعبی کے خلاف قراردینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی وزیر اعظم کا فرمان حشد الشعبی کے خلاف ہے االحدث نے بھی رائے عامہ کو حشد الشعبی کے خلاف کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے جبکہ  عراقی وزير اعظم کا فرمان حکمت عملی پر مبنی ہے جس میں حشدالشعبی کے حقوق کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے اور حشد الشعبی کو عراق کی مسلح افواج کا حصہ قراردینا حشد الشعبی کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ادھر عراق کے ممتاز عالم دین مقتدی صدر نے عراقی وزير اعظم کے فرمان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے عراقی قوم ، حکومت اور مسلح افواج کے لئے بہت ہی اہم قراردیا ہے۔

News Code 1891882

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 4 =