مسلم ممالک کی کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر المناک حملوں کی شدید مذمت

نیوزی لینڈ لے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر دہشتگردی کی ہولناک واردات سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی ہے، مسلم ممالک کی جانب سے افسوسناک سانحے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نیوزی لینڈ لے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر دہشتگردی کی ہولناک واردات سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی ہے، مسلم ممالک کی جانب سے افسوسناک سانحے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت نے کہا ہے کہ عبادت کے مقام پر ایسا حملہ ناقابل قبول ہے، لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور نیوزی لینڈ کی حکومت سے دہشت گرد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ افسوسناک واقعے میں شہید ہوانے والوں میں 3 انڈونیشی باشندے بھی شامل ہیں۔

ملائیشیا نے مساجد میں حملے کو انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان لینا ایک نہایت گھناؤنا عمل اور کسی مہذب سماج میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوا کر ہی مسلمانوں کے دکھ کو کم کر سکتا ہے۔

ترکی نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کو نسل پرستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا عمل کوئی فاشسٹ ہی کر سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں تیزی سے پھیلتے اسلام سے خوف کھانا ہے۔ شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں۔

افغانستان نے نیوزی مساجد حملے میں اپنے 3 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ نہتے لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنانا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ نیوزی لینڈ کو سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیئے۔

بنگلا دیش نے دہشت گردانہ حملے میں اپنی کرکٹ ٹیم کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہایت افسوسناک واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پُر امن لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے کسی بھی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں۔

News Code 1888879

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 7 =