مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت صوبہ پنجاب میں سکھ دہشت گردی کے سراٹھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کارروائی نہیں کی گئی تو کافی تاخیر ہوجائے گی ۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے حال ہی میں سیکیورٹی سے متعلق منعقدہ سیمینار میں بھارتی سینئر فوجی افسران،دفاعی امور کے ماہرین اور حکومت کے سابق افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی پنجاب میں انتہا پسندی کو از سر نو زندہ کرنے کیلئے بیرونی رابطوں کے توسط سے کوششیں کی جارہی ہیں،اگر جلد ہی کارروائی نہیں کی گئی تو کافی تاخیر ہوجائے گی ۔جنرل بپن راوت کا سکھ تنظیموں کا نام لئے بغیر الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہندوستانی پنجاب پرامن رہا ہے لیکن ان بیرونی رابطوں کی وجہ سے ریاست میں انتہا پسندی کو پھر سے ہوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ہمیں کافی محتاط رہنا ہوگا اور اس کے سد باب کے لئے کارروائیاں تیز کرنا ہوں گی ۔ادھر علیحدگی پسند سکھ تنظیم " سکھ فار جسٹس " نے ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے پنجاب میں ماحول بگاڑنے والے بیان پر کھلے لفظوں میں دھمکی دیتے ہوئے جنرل راوت کو ریفرینڈم 20-20 سے دور رہنے کی نصیحت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ریفرینڈم 20-20 کو دبانے کی کوشش کی گئی تو ’’سکھ فار جسٹس‘‘ جنرل بپن راوت کے خلاف عالمی عدالت میں قانونی راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے
ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت صوبہ پنجاب میں سکھ دہشت گردی کے سراٹھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کارروائی نہیں کی گئی تو کافی تاخیر ہوجائے گی ۔
News ID 1885464
آپ کا تبصرہ