صدر روحانی کی قومی اور ملکی مفادات کے تحفظ پر تاکید

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے رواں برس کابینہ کے آخری اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت، قومی اور ملکی مفادات کا ہر صورت میں دفاع کرےگی اور کسی کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ہجری شمسی سال کے آخری ایام میں کابینہ کے آخری اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت،  قومی اور ملکی مفادات کا ہر صورت میں دفاع کرےگی اور کسی کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر حسن روحانی نے ایران کے نئے ہجری شمسی سال کی آمد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سال کی بہترین فصل میں نئے سال کی تقریب منعقد کرتے ہیں اور ایران میں نئے سال کی تقریبات  دینی ، مذہبی اور ثقافتی مراکز میں منعقد کی جاتی ہیں ایرانی عوام اس موقع پر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا و مناجات اور راز و نیاز کرتے ہیں اور پھر ایکدوسرے کے ساتھ اخوت ، برادری ، دوستی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم نئے سال میں عالمی برادری کے ساتھ عزت اور اقتدار کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے اور قومی و ملکی مفادات کا تمام شرائط میں تحفظ کیا جائے گا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے امریکہ کا مکر و فریب نمایاں ہوگیا ہے اور عالمی برادری اب امریکہ کے دباؤ میں نہیں ہے امریکہ نے یمن کے سلسلے میں ایران پر الزام عائد کرنے کی کوشش کی جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، امریکہ نے بیت المقدس کے بارے میں غلط فیصلہ کیا اور اسرائیل کی بھر پور مدد کی جسے عالمی برادری نے مسترد کردیا۔

صدر حسن روحانی نے گذشتہ سال کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال میں سب سے بڑی کامیابی عراق میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش  اور اس کے حامیوں کی خلافت کا خاتمہ ہے عراق اور شام میں داعش کی تاریخی شکست اور عراقی اور شامی عوام کی تاریخی فتح ہے۔

صدر حسن روحانی نے گذشتہ برسوں میں حکومت کی حمایت پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایت اور راہنمائی کے سائے میں ملک ترقی کی شاہراہ پرگامزن رہےگا۔

News Code 1879459

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 8 =