مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ میں امیگریشن حکام اور وفاقی جج آمنے سامنے آگئے۔ امیگریشن حکام کہتے ہیں وہ غیرقانونی تارکین وطن کو پکڑتے ہیں جبکہ عدالتیں انہیں بے دخلی سے روک دیتی ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے غیر قانونی تارکین وطن افراد کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔ امریکی کسٹمز اینڈ امیگریشن ایجنسی کی جانب سے اب تک امریکہ میں سیکڑوں غیر قانونی طور پر مقیم سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ۔ ان میں سے بعض کو تو ملک سے بے دخل کردیا گیا تاہم زیادہ تر عدالتوں سے اسٹے آرڈر لینے میں کامیاب رہے ۔اس حوالے سے وفاقی عدالتوں نے زیادہ تر افراد کی بے دخلی روکنے کے احکام دئیے ۔ گزشتہ ہفتے بھی نیوجرسی کی ایک وفاقی عدالت نے انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن افراد کے بے دخلی روک دی ۔ ایسا ہی ایک حکم میامی میں جاری کیا گیا اور سو کے قریب صومالی افراد کی بے دخلی روک دی گئی ۔ڈیٹرائٹ میں سیکڑوں عراقی تارکین وطن افراد کی بے دخلی کو بھی وفاقی عدالت کے حکم پر روکنا پڑا ۔ امریکہ کی وفاقی عدالتوں کے مطابق تارکین وطن افراد کو تمام قانونی مدد حاصل کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ دوسری جانب امیگریشن حکام وفاقی عدالتوں کے ان احکامات سے خوش نہیں ہیں ۔
امریکہ میں امیگریشن حکام اور وفاقی جج آمنے سامنے آگئے۔ امیگریشن حکام کہتے ہیں وہ غیرقانونی تارکین وطن کو پکڑتے ہیں جبکہ عدالتیں انہیں بے دخلی سے روک دیتی ہیں ۔
News ID 1878653
آپ کا تبصرہ