چابہار معاہدہ علاقائی ممالک کی معاشی رونق اور اقتصادی بہارکا معاہدہ

اسلامی جمہوریہ ایران، ہندوستان، اور افغانتسان کے رہناؤں نے تہران میں سہ فریقی اجلاس میں چابہار معاہدے پر دستخط کرکے علاقائی ممالک کی معاشی رونق اور اقتصادی خوشحالی و بہار میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس معاہدے کو علاقہ کے تمام ممالک کے مفاد میں قراردیتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی علاقہ میں معاشی رونق اور اقتصادی خوشحالی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی "سید ذاکرحسین" اسلامی جمہوریہ ایران، ہندوستان، اور افغانتسان کے رہناؤں نے تہران میں سہ فریقی اجلاس میں چابہار معاہدے پر دستخط کرکے علاقائی ممالک کی معاشی رونق اور اقتصادی خوشحالی و بہار میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس معاہدے کو علاقہ کے تمام ممالک کے مفاد میں قراردیتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی علاقہ میں معاشی رونق  اور اقتصادی خوشحالی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

 

دیدار رئیس جمهور افغانستان و نخست وزیر هند با حضرت آیت‌الله خامنه‌ای رهبر انقلاب اسلامی

ایران کے روحانی پیشوا رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بھی ہندوستان کے وزير اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں اس معاہدے کو علاقائی ممالک کے درمیان اقتصادی فروغ کے سلسلے میں بہت ہی اہم اور مفید معاہدہ قراردیتے ہوئے فرمایا:  چابہار بندرگاہ کا مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کو ملانے میں اہم کردار ہےاور یہ بندرگاہ  علاقائی ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اور معاشی رونق  کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے معاہدے کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ تہران، نئی دہلی اور کابل کی جانب سے یہ پیٖغام ہے کہ ترقی کی جانب راستہ باہمی تعاون اور خطے میں موجود مواقعوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ جبکہ ہندوستانی وزير اعظم نے کہا کہ نریندر مودی نے کہا کہ ہم دنیا کو آپس میں منسلک کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو جوڑنا پہلی ترجیح ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس سلسلے میں ہندوستان کی جانب سے 50 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم ہے۔ اشرف غنی نے کہا کہ ہمارے جذبے کا آغاز آج چابہار سے ہوگیا ہے جس کا اختتام معاشی اور ترقیاتی تعاون پر ہوگا۔

 

انصاری

ہندوستان میں ایران کے غلام رضا انصاری کے مطابق  ہندوستان، ایران اور افغانستان کے رہنماؤں نے باہمی ملاقات میں علاقہ میں پائدار امن و ثبات پر تاکید کی کیونکہ خطے میں پائدار امن کے سائے میں ہی اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

انصاری کے مطابق ایران اور ہندوستان کے رہنماؤں نے اس سفر میں جو فیصلے کئے ہیں وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس میں دوطرفہ تجارت اور باہمی خرید و فروخت پر توجہ مبذول کی گئی ہے اور بینکی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی زوردیا گیا ہے۔

انصاری کا کہنا ہے کہ  گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی ہے جو علاقائی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون پر مشتمل ہے۔

انصاری نے ہندوستان پر ایران کی واجب الادا رقم کے بارے میں کہا کہ ایران اور ہندوستان کے حکام نے اس موضوع پر بھی دقیق بحث کی ہے البتہ ہندوستان نے اس سے قبل کچھ رقم ایران کو ادا کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان  کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ ایران میں مزيد سرمایہ کاری کرے ،تاکہ ہم ہندوستانی بینکوں کی بنیاد پر باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دے سکیں۔

مبصرین کے مطابق چابہار بندرگاہ ہندوستان کے لئے بڑي اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس بندرگاہ کے ذریعہ ہندوستان کو وسطی ایشیائی ممالک تک تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے رسائی حاصل ہوجائے گی اور معاشی اور تجارتی حوالے چابہار ہندوستان کے لئے  بہت اہم اور مفید ثابت ہوگی اور اسی لئے ہندوستان اس بندرگاہ پر کثیر رقم خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔

البتہ بعض عناصر ہندوستان کے اس اقدام کو چین کی گوادر علاقہ میں سرمایہ کاری کے ساتھ موازنہ کررہے ہیں اور ان دونوں اقتصادی بندرگاہوں کو ایکدوسرے کی حریف قراردینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ چابہار اور گوادر بندرگاہیں نا صرف ایکدوسرے کے خلاف نہیں بلکہ گوادر اور چا بہار بندرگاہیں اقتصادی اور معاشی لحاظ باہمی تعاون کا مظہر اور خظے کی معاشی رونق اور اقتصادی خوشحالی کا موجب بنیں گی ۔ چا بہار ایک بین الاقوامی بندرگاہ بن رہی ہے چا بہار میں دنیا کے متعدد ممالک کے لوگ آ کر کاروبارکر رہے ہیں اور یہ دونوں بندرگاہیں خطے کی معاشی خوشحالی اور اقتصادی رونق کا سبب بنیں گی۔

مهدی هنر دوست

ایران ، ہندوستان اور افغانستان کے درمیان جہاں اس سہ فریقی معاہدے کو اقتصادی ترقی  ، معاشی رونق وخوشحالی اور باہمی تعاون کامظہر قراردیا جارہا ہے وہیں اس معاہدے کو کئی مشکلات کا بھی سامنا ہے جس میں امریکی مخالفت بھی شامل ہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحال کا خواہاں نہیں ہے وہ چاہتا ہے کہ علاقائی ممالک امریکہ کے دست نگر رہیں اورامریکی مرضی کے مطابق عمل کرتے رہیں۔ امریکی مداخلت اور مخالفت کی وجہ سے ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کا معاہدہ  بھی ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکا حالانکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدہ بھی علاقائی ترقی اور خوشحالی کا باعث ہے جس پر پاکستان امریکی پابندیوں کے خوف سے عمل کرنے سے کتراتا رہا ہے ۔ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان ایٹمی معاہدے کی بعد توقع تھی کہ پاکستان گیس پائپ لائن کے معاہدے پر عمل درآمد کرےگا لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پرپاکستان گیس پائپ لائن معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں دیر کررہا ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیرمہدی ہنر دوست کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران معاہدے پر قائم ہے اور ایران نے اپنے حصہ کی گیس پائپ لائن پاکستن کی سرحد تک پہنچا دی ، ایرانی گیس پاکستان کے لیے سستی ہے۔ چابہار بندرگاہ کوخطے میں اقتصادی اور معاشی  رونق کو فروغ دینے کے لئے  اہم قراردیا جارہا ہے چابہار خطے میں اقتصادی رونق کو فروغ دینے میں اہم بندرگاہ کی حیثیت ہے اسے بھی امریکی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑےگا مبصرین کا کہنا ہے یہ بندرگاہ ہندوستان کے لئے بڑي اہم ہے لہذا اس حوالے سے ہندوستان امریکہ کے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرےگا۔

News Code 1864323

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 12 =