مہر خبررساں ایجنسی نے شنہوا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ گزشتہ روز بیجنگ میں ”ورلڈ روبوٹ کانفرنس 2015ء“ ہوئی جس میں چین نے تین ایسے روبوٹ متعارف کروائے ہیں جو دہشت گردوں سے لڑنے، انہیں قابو کرنے اور مشکوک افراد کی جاسوسی کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ یہ روبوٹ چھوٹے سائز کے بموں اور دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹ چین کے شہر ہربن کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی ”ووین پنگ“ کے انجینئرز نے بنائے ہیں۔ یہ روبوٹ میدانِ جنگ میں بھی دشمن کے خلاف لڑنے اور جاسوسی کا کام کر سکتے ہیں۔ کانفرنس میں کمپنی کے انجینئرز نے بتایا کہ یہ روبوٹ اپنے کیمروں اور سینسرز کے ذریعے میدان جنگ کا مشاہدہ کرتے ہیں، جب ایک بار یہ اپنے سینسرز کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کا پتا چلا لیتے ہیں تو یہ اطلاع ہیڈکوارٹرز بھیجتے ہیں جہاں سے انہیں مزید اقدامات کے احکامات دیئے جاتے ہیں۔ ہیڈکوارٹرز سے احکامات ملنے پر روبوٹ چھوٹے بموں کو خود ہی ناکارہ بنادیں گے یا پھر انہیں وہاں سے مطلوبہ جگہ پرمنتقل کر دیں گے۔ ان تینوں میں سے ایک روبوٹ میں چھوٹے ہتھیار، رائفلیں اور گرنیڈ لانچر نصب کیے گئے ہیں اور یہ روبوٹ کافی فاصلے سے دشمن کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انجینئرز کا کہنا تھا کہ اگر موقع پر صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو گی تو یہ روبوٹ ہیڈکوارٹرز کو اس سے آگاہ کریں گے اور ہیڈکوارٹرز سے بم ڈسپوزل عملہ اس کا کوئی حل تجویز کرے گا۔ ان روبوٹس کا وزن محض 12کلوگرام ہے اور کوئی بھی فوجی انہیں اپنی پشت پر اٹھا کر اپنے ساتھ مطلوبہ جگہ پر لیجا سکتا ہے۔ انجینئرز کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹس نہ صرف جنگی ماحول میں کام کر سکتے ہیں بلکہ عمومی دنوں میں ملک کے اندر بھی شہریوں کے تحفظ کے لیے مختلف سکیورٹی آپریشنز میں انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ روبوٹس آگ بجھانے کے لیے لیے فائربریگیڈ عملے کے کام بھی آسکتے ہیں اور انہیں زراعت و جنگلات میں بھی مختلف امور کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ روز بیجنگ میں ”ورلڈ روبوٹ کانفرنس 2015ء“ ہوئی جس میں چین نے تین ایسے روبوٹ متعارف کروائے ہیں جو دہشت گردوں سے لڑنے، انہیں قابو کرنے اور مشکوک افراد کی جاسوسی کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔
News ID 1859940
آپ کا تبصرہ