جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں ایڈز کی طرز کی ایک نئی بیماری دریافت

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں جنسی بے راہ روی کے باعث ایڈز کی طرز کی ایک نئی بیماری دریافت ہوئی ہے اورحیرت انگیز بات یہ کہ جو افراد اس مرض کا شکار ہیں انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ان کے اندر یہ خطرناک انفیکشن جنم لے چکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں جنسی بے راہ روی کے باعث ایڈز کی طرز کی ایک نئی بیماری دریافت ہوئی ہے اورحیرت انگیز بات یہ کہ جو افراد اس مرض کا شکار ہیں انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ان کے اندر یہ خطرناک انفیکشن جنم لے چکا ہے۔  مائیکوپلازما جینیٹیلئم ( جی ایم) نامی یہ انفیکشن 30 سال قبل دریافت ہوا تھا اور اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ جنسی عمل کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے،16 سے 44 سال تک کی ایک فیصد برطانوی آبادی اس مرض کی شکار ہے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں۔ جو شخص بہت سے لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتا ہے ان میں یہ مرض موجود ہوسکتا ہے، جب کہ یہ مرض 90 فیصد مردوں میں موجود ہوسکتا ہے، اگرچہ یہ مرض مہلک نہیں لیکن یہ پیشاب کی نالیوں میں جلن پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ  خواتین کو بانجھ بھی بناسکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ٹنڈر، گرنڈر اور ایسی ہی دیگر ایپس اور سہولیات لوگوں میں ایڈز سمیت کئی امراض کی وجہ بن رہے ہیں کیونکہ لوگ ان ایپس کو جنسی تعلقات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔  ڈاکٹروں کے مطابق اس طرح لوگوں میں ایچ آئی وی انفیکشن اور دیگر امراض کا ایک ’ طوفان‘ پھٹ پڑے گا۔

 

News Code 1859716

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =