18 مئی، 2015، 7:17 PM

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز

پاکستانی کمپنی "ایگزیکٹ " کا اصل کاروبار جعلی ڈگریاں فروخت کرنا ہے

پاکستانی کمپنی "ایگزیکٹ " کا اصل کاروبار جعلی ڈگریاں فروخت کرنا ہے

مہر نیوز/18 مئی / 2015 ء :امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائِع کی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ادارے ایگزیکٹ کا اصل کاروبار دنیا بھر میں جعلی ڈگریاں فروخت کرنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائِع کی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ادارے ایگزیکٹ کا اصل کاروبار دنیا بھر میں جعلی ڈگریاں فروخت کرنا ہے۔تاہم ایگزیکٹ نے اس خبر کو سازش اور مفروضے پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایسی یونیورسٹیاں جن کا کہیں وجود نہیں ، نہ ایسے پروفیسرز جو کہیں پڑھاتے ہیں اور ایسی ڈگریاں جو پرائیوٹ کمپنیاں جاری کرتی ہیں ، دنیا بھر میں سب سے منافع بخش کاروبار بنتا جارہا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ایک ایسے ہی پاکستانی ادارے کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔نیویارک ٹائمز نے کراچی میں قائم ایک ادارے ’’ایگزیکٹ‘‘ کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوفٹ ویئر برآمد کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایگزیکٹ کا اصل کاروبار دنیا بھر میں جعلی ڈگریاں فروخت کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے ’’ایگزیکٹ‘‘کمپنی نے سیکڑوں درس گاہوں کی جعلی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں، جہاں درجنوں شعبوں میں مختلف ڈگریاں آن لائن حاصل کی جاسکتی ہیں، جب آپ ان ویب سائٹس پر جاتے ہیں تو وہاں آپ کو مختلف پروفیسرز حضرات خوش آمدید کہتے نظر آئیں گے، نیویارک ٹائمز کا ’’ایگزیکٹ‘‘کے سابقہ ملازمین کے حوالے سے کہنا ہے کہ کمپنی میں 24گھنٹے سیلز ایجنٹ کام کرتے ہیں اور صارفین کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور نہ صرف جعلی ڈگری کے حصول کے خواہش مند افراد کو تسلی بخش جواب دیا جاتا ہے بلکہ ایسے افراد جو حقیقی معنوں میں تعلیم کے لیے داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں انہیں کسی نہ کسی کورس میں داخلہ کرادیا جاتا ہے جو کبھی مکمل بھی نہیں ہوتا۔ ایگزیکٹ کی سیلز ٹیم ہائی اسکول ڈپلوما سے لے کر ڈاکٹریٹ ڈگری تک فروخت کرتے ہیں اور اس کے لیے صارفین کو 350 ڈالر سے لے کر 4 ہزار ڈالر تک ادا کرنے پڑتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ سیلز ایجنٹ اپنے انگریزی لب و لہجے کے ذریعے امریکی سرکاری عہدیدار بن جاتے ہیں تاکہ صارفین کو مہنگے سرٹیفکیٹس خریدنے پر راغب کیا جاسکے، تعلیم کے شعبے میں اس طرح کی جعلسازی پر امریکی عدالت ایگزیکٹ پر پہلے بھی لاکھوں ڈالرز کا جرمانہ کرچکی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے سابقہ ملازمین کے حوالے سے بتایا کہ اس دھوکا دہی کے ذریعے کمپنی ماہانہ لاکھوں ڈالر منافع کمارہی ہے اور یہ تمام پیسہ سمندر پار قائم مختلف کمپنیوں کے ذریعے پھر پاکستان آتا ہے اور پاکستان میں ناکافی اور غیر مؤثر انٹرنیٹ قوانین اور کمپنی کی جارحانہ قانونی پالیسی اسے خوب تقویت پہنچارہے ہیں۔

News ID 1855357

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha