مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ نے ایک بیان میں جنگ میں بچوں کو استعمال کرنے پرسلفی وہابی دہشت گرد تنظیموں داعش اور طالبان دہشت گردوں کی سخت مذمت کی ہے۔
یونیسف اوراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بچوں سے متعلق خصوصی نمائندہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بچوں کو مسلح کرنے اوران کی بھرتیوں کے خاتمے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اب بھی طالبان ،اسلامک اسٹیٹ (داعش) اور دیگر سلفی وہابی دہشت گرد گروہ انھیں جنگ میں استعمال کر رہے ہیں۔ان بچوں کو خودکش بمبار،اسلحہ کی تیاری اور بارودی موادایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بچوں کی مسلح گروپوں کے لیے بھرتی اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری ایکشن لینے پر زور دیا ہے۔ افغانستان کے علاوہ سینٹرل افریقن ریپبلک میں بھی8 سال عمر تک کے بچے اوربچیاں بھرتی کی گئی ہیں۔ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں بھی بچوں کی بھرتی کے کئی کیس سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 10 سال عمر کے بچوں کو براہ راست لڑائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بچیوں سے جنسی زیادتیاں بھی کی گئیں۔ عراق اور شام میں داعش نے بھی بچوں کو لڑائی کیلیے بھرتی کیا، یہاں 12 سال عمرتک کے بچوں کوفوجی تربیت دینے کے علاوہ مخبری، گشت اور اہم مقامات پرحفاظت کے علاوہ انھیں خودکش بمبار کے طورپر بھی استعمال کیاگیا۔
آپ کا تبصرہ