21 جنوری، 2015، 12:16 PM

ہندوستان

ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری میں سخت پریشانی کا سامنا

ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری میں سخت پریشانی کا سامنا

مہر نیوز/ 21 جنوری / 2015 ء : ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ایک طرف ہندو شدت پسند مسلمانوں کو مذہب بدلنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری کرنے پر سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ہندوستانی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ایک طرف ہندو شدت پسند مسلمانوں کو مذہب بدلنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری کرنے پر سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ہندوستانی اخبار کے مطابق پاکستان سے بیاہ کر بھارت آنے والی لڑکیوں کو بھارتی پولیس مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کرتی ہے۔ ضلع اترکھنڈ کے بھٹ کال میں صورتحال زیادہ پریشان کن ہے، جن گھروں میں پاکستانی بہو ہے، ان کے دروازوں پر سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کا آنا معمول ہے کبھی رات کے وقت آکر ہراساں کرتے ہیں۔

اخبار کے مطابق پاکستانی والدین بھارت میں بیاہی اپنی بیٹیوں کیلیے پریشان ہوتے ہیں۔ جن خاندانوں کی بھی پاکستان میں رشتہ داری ہے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بھارت میں تمام پاکستا نیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر بھٹ کالیوں پر زیادہ سختی کی جا رہی ہے۔ ادھر ہندوستان میں جب سے انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھ میں مرکزی حکومت کی کمانڈ آئی ہے تب سے انھوں نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو پریشان کرنا شروع کردیا اور مسلمانوں کومذہب بدلنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں انتہا پسند ہندو، غریب مسلمانوں کو مادی لالچ بھی دے رہے ہیں حال ہی میں آگرہ میں بہت سے مسلمانوں کو مادی لالچ میں ہندو بنانے کی کوشش کی گئی لیکن مقامی مسلمانوں نے خبر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مذہب تبدیل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی  لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔ بہر حال ہندوستان کی موجودہ حکومت مختلف پہلوؤں سے مسلمانوں پر اپنا دباؤ قائم کررہی ہے ذرائع کے مطابق ہندو انتہا پسند حکومت نے 2016 میں بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے اور اس سے قبل وہ مسلمانوں پر قابو پانے کی کوشش اور مسلمانوں میں تفریق اور اختلاف پیدا کرنے کی تلاش کررہی ہے۔

News ID 1848622

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha