12 اکتوبر، 2013، 5:07 PM

اسماعیل کوثری

فردو، یورینیم کی افزودگی اورافزودہ یورینیم کا خروج ریڈ لائنیں ہیں

فردو، یورینیم کی افزودگی اورافزودہ یورینیم کا خروج ریڈ لائنیں ہیں

مہر نیوز/12 اکتوبر/2013ء: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی قانون کے دائرے میں عمل نہیں کرتے تب تک مذاکرات کا کوئي نتیجہ برآمد نہیں ہوگا اور ایران کی ریڈ لائن پر مذاکرات کا کوئی معنی نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگومیں اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری  نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی قانون کے دائرے میں عمل نہیں کرتے تب تک ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں کوئي نتیجہ برآمد نہیں ہوگا اور ایران کی ریڈ لائنوں پر مذاکرات کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ کوثری نے ایران کے پرامن ایٹمی حقوق کو تسلیم کئے جانے کے سوال کا جواب د یتے ہوئے کہا کہ گروپ 1+5 میں فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں جب امریکی صدر باراک اوبامہ، اسرائیلی وزير اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں اپنی بات بدل دیتے ہیں اور اسرائیلی وزير اعظم کے سامنے امریکی صدر کی استقامت متزلزل ہوجاتی ہے اور گروپ 1+5 کے اکثر اراکین کے مد نظر قانون نہیں بلکہ اسرائيل کی خوشنودی ہے تو میں اس صورتحال کے پیش نظر  گروپ 1+5 کے ساتھ  مذاکرات سے  مطمئن نہیں ہوں۔ کوثری نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی اگر قانون کے دائرے میں عمل کریں تو نہ صرف علاقائي مسائل بلکہ عالمی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں کوثری نے کہا کہ مذکورہ 4 ممالک اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ، کوثری نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق چل رہے ہیں پھر بھی ہمیں روکنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اسرائيل بین الاقوامی قوانین کو توڑ رہا ہے لیکن اسے کوئي کچھ کہنے والا نہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے کہا کہ گروپ 1+5 کے بعض ارکان ہم سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جو عالمی قوانین کے مطابق نہیں ہیں۔ کوثری نے کہا کہ فردو، یورینیم کی افزودگی اور افزودہ یورینیم کا ایران سے خآرج کرنا ایران کی ریڈ لائنیں ہیں اور ریڈ لائنوں پر مذاکرات نہیں کئے جاسکتے۔

کوثری نے کہا کہ اگر ہم دباؤ قبول کرتے تو پھر ہم پہلے سے انقلاب نہ کرتے، ہمارے انقلاب کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ ہم مذاکرات کرتے ہیں گفتگو کرتے ہیں لیکن ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ کے قومی اور ملکی مفادات ہیں تو ایران کے بھی قومی اور ملکی مفادات ہیں ، ایران کو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ کوثری نے کہا کہ منہ زور پالیسیوں  اور دھمکی آمیز بیانات کا دور گزر گیا ہے اور آج کوئی بھی امریکہ کے دباؤ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

News ID 1829107

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha