10 ستمبر، 2013، 3:46 PM

روسی تجویز مثبت/ امریکی سینٹ میں قرار داد پر بحث مؤخر

روسی تجویز مثبت/ امریکی سینٹ میں قرار داد پر بحث مؤخر

مہر نیوز/ 10 ستمبر/2013ء: امریکی صدر اوبامہ نے جنگ سے بچنے کے لیے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کر نے کی روسی تجویز پر کہا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر اوبامہ نے جنگ سے بچنے کے لیے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کر نے کی روسی تجویز پر کہا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ادھرصدر اوبامہ کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے امریکی سینیٹ نے مزید وقت دے دیا ہے۔ شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر امریکی سینیٹ میں بدھ کو ووٹنگ ہونا تھی۔ کل کے اجلاس میں قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے سینیٹ کے اکثریتی لیڈر، سینیٹر ہیری ریڈ نے اعلان کیا کہ ووٹنگ بدھ کو نہیں، رواں ہفتے کے آخر میں ہو گی۔ سینیٹر ریڈ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے صدر اوبامہ کو سینیٹرز اور امریکی عوام پر اپنا موقف واضح کرنے کا وقت ملے گا۔ اوباما شام پر حملے کی قرارداد کی حمایت کے لیے آج سینیٹرز سے ملاقات بھی کریں گے اور قوم سے خطاب بھی۔ سینیٹ کے 60 ووٹ ملنے کے بعد یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان میں جائے گی۔ وہاں سے منظوری حاصل ہوئی تو اوبامہ کو کارروائی کا اختیار مل جائے گا۔ اس پورے عمل میں اب ایک ہفتہ سے زیادہ وقت لگنے کا امکان ہے، لیکن اس سے پہلے 6 مختلف امریکی چینلز کو انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شام سے کیمیائی ہتھیار عالمی کنٹرول میں لانے کا مجوزہ روسی منصوبہ ایک اہم اور مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اوبامہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیرِ خارجہ جان کیری کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ روسی حکام سے مل کر یہ دیکھیں کہ یہ منصوبہ کتنا قابلِ عمل ہے۔اوباما نے کہا کہ شام کے مسئلے کا دیر پا سفارتی حل نکل آئے جس سے عالمی برادری بھی مطمئن ہو، تو امریکہ اس کا حامی ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس نے شام پر حملے کی منظوری نہ دی تو کیا کرنا ہے؟ اس کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی جانب سے فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے شام حکومت کو کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کرنے کی تجویز کو جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے بھی مثبت قرار دیا تھا۔ ادھر ترکی اور سعودی عرب شام پر امریکی فوجی حملے کے لئے سخت بے چین نظر آرہے ہیں ترکی کے وزير خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو شام پر فوجی حملے میں پس و پیش نہیں کرنی چاہیے۔ ترک اور سعودی عرب عالم اسلام میں منافقانہ چال چل رہے ہیں۔

News ID 1827659

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha